|
سرینگر اور باقی اضلاع میں کاروباری
ادارے بند رہے جبکہ کشمیر کے اکثر سرکاری اداروں میں ملازموں کی حاضری
با لکل کم رہی ۔ تعلیمی اداروں میں طلباء کی حاضری بھی نہ ہو نے کے
برابر تھی اور سڑکو ں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی مسدود ہو کر رہ گئی
کشمیری حکومت مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں550کنال اراضی کو غیر
ریاستی باشندوںکو لیز پر دینا چاہتی ہے جسکی علحیدگی پسند
جماعتوںسمیت کشمیر کی مین اسٹریم جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی مخالفت
کی۔ حریت کانفرنس کی ہڑتال کال ا ور اسے نیشنل کانفرنس کی حمائت پر
مسٹر گیلانی نے اپنا ردعمل ظاہر کر تے ہو ئے کہاکہ ا گر نیشنل
کانفرنس واقعی ماضی کی اپنی غلطیوں پر نادم ہے تو اس بھارت کی غلامی
سے آزادی والے نعرے کا ساتھ دینا چاھیے
اس حکرمتی فیصلے کے خلاف نیشنل
کانفرنس نے گلمرگ کے قریب ٹنگمرگ کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کئے
،مظاہرین کی قیادت ہندوستان کے سابق وزیر مملکت برائے خارجہ اور
نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ کر رہے تھے
عمر عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ
کہ کشمیر کشمیریوںکا ہے اور یہاں کی ایک ایک ایچ پر صرف ریاستی
لوگوںکا حق ہے ۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ گلمرگ کو غیر ریاستی
باشندوںکو لیز پر دینے کی ہر گز اجازت نہیںدی جائے گی۔
جموں کشمیر میں ہڑتال کی کال کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام گلمرگ
میں اعلیٰ قسم کے ہوٹل اور سیاحوںکو دیگر سہولیت فراہم کرنے کے لئے
550کنال اراضی کو لیز پر دینے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف کشمیر میں
سیاسی ،سماجی اور کاروباری اداروںسے وابسطہ افراد نے حکومت کے اس
فیصلے کے خلاف مورچہ کھول دیا ،جسکے بعد کشمیر کے سیاحتی محکمہ کے
وزیر نے یہ معاملہ اگلے کابینہ فیصلہ تک التوا میں رکھ دیا ،جبکہ
کشمیر کی علحیدگی پسند جماعت حریت کانفر نس نے اس فیصلے کے خلاف
25نومبر کو ریاست بند کی کال دی ہے جسکی کئی جنگجو تنظیموں سمیت
کشمیر کی مین اسٹریم جماعت نیشنل کانفرنس نے حما یت دینے کا اعلان
کیا ہے
جموں کشمیر کی ریاستی کابینہ نے ایک
فیصلہ زیر آڈر نمبر 266 TSM جسکے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ میں550کنال
اراضی کو لیز پر دیا جائے گا مگر حکومت نے اسکے لئے جو قواعد و ضوابط
وضع کئے اسکے مطابق زمین کی بولی میں غیر ریاستی باشندے بھی حصہ لے
سکتے ہیں کابینہ کا یہ فیصلہ منظر
عام پر آنے کے بعد ہر سطح پر اسکی محالفت شروع ہو گئی ۔کشمیر کی
علحیدگی پسند جماعت حریت کانفرنس کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی نے
اس فیصلے کو کشمیر میںنسل کشی کا نیا حربہ قرار دیا
مسٹر گیلانی کے مطابق کشمیرمیںایک
سازش کے تحت فلسطین جیسی صورتحال پید ا کئی جارہی ہے تاکہ کشمیر
یوںکو اپنی زمین سے بے دخل کر دیا جائے ۔گیلانی کی حریت کانفرنس نے
اس فیصلے کے خلاف رائے عامہ منظم کر نے کے لئے رواںماہ کی 20تاریخ کو
ایک سمینار کا انعقاد کیاتھا جسمیںکشمیر کے دانشوروں،صحافیوں ،وکلاء
اور سیاست دانوں نے اس فیصلے کی پر زور مخالفت کی
حکومت کے اس فیصلے کی مقامی تاجر
وںنے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر کو غیر ر یا ستی باشندوںکو
فروخت کر نے کی ایک کوشش ہے ۔چیمبر آّف کامرس اینڈانڈسٹریز کے چیرمین
ڈاکٹر مبین شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر زمین لیز کے لئے
ایسے قواعد ضوابط وضع کئے جسکے مطابق کشمیر کے تاجر زمین کو لیز پر
لینے کے لیے ناکام ہو جایئں گے
انہوںنے اس سلسلے میں تشویش کا
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے کئی بار حکومت کو اپنی تشویش سے
آگاہ کیا مگر حکومت کی طرف سے انہیںکو ئی جواب نہیںمل گیا ۔ اس
فیصلے کی ہر سطح پر مخالفت کے بعدکشمیر کے وزیر سیاحت محمد دلاور میر
نے اس فیصلے کو اگلی کابینہ فیصلہ تک التوا میںرکھ دیا
کل سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اگر چہ انہوںنے اپنے طور پر
لینڈلیز معاملے کی کافی وضاحت کی تاہم وہ پریس کانفرنس میںموجود
صحافیوں کو مطمئین نہیںکر سکے
اس فیصلہ کے خلاف کشمیر کی علحید گی
پسند جماعت حریت کانفرنس نے 25 نومبر کو کشمیر بند کی کال دی ہے
جسکی کشمیر میںسرگرم کئی جنگجو
تنظیموںسمیت کشمیر کی مین اسٹریم جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی حمایت
دینے کا اعلان کیا ہے ۔نیشنل کانفرنس کشمیر کی سے بڑی مین اسٹریم
جماعت ہے اور اسکے صدر عمر عبداللہ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل
بہاری واچپائی کی کابینہ میں امور خارجہ کے وزیر مملکت رہے ہیں۔نیشنل
کانفرنس زمین لیز معاملے کی مخالفت کر نے اور کشمیر بند کال کی حمایت
دینے والی واحد کشمیر کی میںاسٹریم جماعت ہے |