|
چیت کے حق میں ہے بشرطیکہ دلی سے
بلاوا آجائے
سرینگر میں مجلس عاملہ اور جنرل
کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران حریت کانفرنس
کے سابق چیرمین پروفیسر عبد الغنی بٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ
حریت کی مجلس عاملہ نے آج ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ لیا ہے جسکے
مطابق حریت کانفرنس پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی سیلف رول کی
تجویز کو قابل عمل تصور کرتی ہے کیونکہ اس تجویز پر بات کی جا سکتی
ہے
انہوں نے کہا کہ مشرف کے سیلف رول
کے دائرے میں کنٹرول لائن کے آر پار کے علاقے آتے ہیں
انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے
سیلف رول کی تجویز پیش کرکے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے راہ ہموار کی ہے
تاہم ہم یہ نہیں کہتے کہ حریت جس سیلف گورننس کی بات کرتی ہے وہ حتمی
حل ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ اگر دوسرے لوگوں کے پاس بھی اس سے اچھی
تجاویز ہیں توانہیں کھلے ذہن کے ساتھ آگے آکر انہیں عوام کے سامنے
رکھنا چاہئے
حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح
الدین کی طرف سے اتحاد کےلئے دو نکاتی فارمولے پر تبصرہ کرتے ہوئے
پروفیسر بٹ نے کہا کہ حریت کبھی اتحاد کے خلاف نہیں رہی ہے اور
تنازعہ کشمیر کے حل کےلئے جو بھی آگے آنا چاہئے حریت کے دروازے اس
کےلئے کھلے ہیں کیونکہ مسئلہ کشمیرکسی کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے
انہوں نے مزید کہا کہ تنازعہ کشمیر
کے حل کے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ کوئی نئی راہ نکل سکے ۔حریت کی
طرف سے دورہ پاکستان کے حوالے سے پروفیسر بٹ نے کہا کہ حریت کانفرنس
کا وفد پاکستان جائےگا تاہم پاکستان جانے سے قبل حریت دلی کے ساتھ
بھی بات چیت کے حق میں ہے بشرطیکہ دلی سے کوئی بلاوا آجائے
انہوں نے کہا کہ حریت کا یہ موقف ہے
کہ ہندوستان اور پاکستان کو بھی مسئلہ کشمیر کا ایسا حل تلاش کرنا
ہوگا جس میں یہاں کے لوگوں کی خواہشات کا احترام ہو
نہوں نے کہا کہ حریت ریاست میں ہر
طرح کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف آواز بلند کرےگی چاہئے وہ
فوج کے ہاتھوں ہو یا دیگر اسلحہ برداروں کے ہاتھوں
انہوںنے کہا کہ بے گناہ افراد کا
قتل حریت کےلئے ناقابل برداشت ہے اور اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا |