Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 03 December 2006 17:25 (PST)اشاعت

سیلف رول میں تمام اسمبلیاں علیحدہ علیحدہ ہونگی

ایم طاھر

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، سرینگر

سیلف رول ہی مسئلہ کشمیر کا بہترین حل ہے ، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کشمیر تنازعہ کے لیے سیلف رول سب سے بہترین حل ہے اور انکی جماعت سیلف نظریہ کی ہی حمایت کرتی ہے ’اردو سروس ڈاٹ نیٹ جرمنی‘  کے ساتھ ایک انٹریو کے دوران محبوبہ مفتی نے

سیلف رول کی وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ سیلف رول میں جموں کشمیر کے تمام خطوں کی علیحد ہ علیحدہ اسمبلیاں ہوں گی ، پولیس اور انتظامی امورات میں مقامی افسران کا عمل دخل ہو گا ،اسکے علاوہ گورنر کا تعلق ریاست جموںوکشمیر سے ہوگا اور اسکا انتخاب ریاست کی قانون سازیہ کرے گی (اس وقت ریاست کے گونر کو ہندوستان کا صدر نامزد کرتا ہے)

انہوںنے کہا کہ سیلف رول ہی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سب سے زیادہ مظبوط نظریہ ہے کیو نکہ اسکو ہندوستان کے علاوہ پاکستان کی بھی حمایت حاصل ہے

اٹانومی جوکہ جموںکشمیر کی اسمبلی میںسب سے بڑی حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک ایجنڈا ہے سے متعلق محبوبہ مفتی نے کہا کہ اٹانومی میں کشمیریوںکے لیے کوئی گارنٹی نہیںہے کیونکہ اسی اٹانومی کے ہوتے ہوئے اسوقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کو ایک معمولی پولیس اہلکارنے ہتھ کڑیاں پہنا کر پابند سلاسل کر دیا تھا اس لیے کو اٹانومی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے سب سے کمزور نظریہ ہے

محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ جنرل مشرف کی طر ف سے سیلف رول میڈیا میں آنے سے قبل ہی اس سلسلے میں دلی میں تیاریاں ہورہی تھیں اور سابق بی جے پی سرکار کے ایک اہم صلاح کار جے ،این ،ڈکشت اس سلسلے میںکلیدی رول ادا کر رہے تھے ،اس ساری صورتحال کے بعد پاکستان سے بھی اسی طرح کا ایک فارمولہ سامنے آیا

کانگریس جسکو حکومت میںپی ڈی ڈی کی حمایت حاصل ہے اور سیلف رول کی سخت مخالف ہے سے متعلق محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاںہر کس کو اپنی بات کہنے کا حق ہے کانگریس پارٹی ایک قومی پارٹی ہے اور اسکو قومی معاملات کا بھی خیال رکھنا ہے

محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر مسئلہ کے حوالے سے پاکستان کو ایک فریقانہ حیثیت حاصل ہے اس لئے ہندوستان ،پاکستان اور کشمیر یوںکو مل بیٹھ کر کو ئی حل نکالنا ہوگا ۔ کیونکہ اس سے پہلے جب بھی دلی اور سرینگریا دلی اور اسلام آباد نے کوئی فیصلہ کیا تو وہ سب فیصلے ناکام ہوگئے محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کشمیر میںحالات بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیںاور گزشتہ انتخابات کے دوران ۰۸ فیصد لوگوںنے ووٹ دے کر ہندوستان کی جمہوریت پر مہر ثبت کرددی

محبوبہ مفتی نے کہا کہ کچھ لوگ جو کشمیر کے نام پر مختلف ایجنسیوںسے رقم وصول کرتے ہیں وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو کیونکہ مسئلہ کشمیر ان کے لئے سونے کی کان ثابت ہوگئی ہے

محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر کشمیر سے فوجی انخلا کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ کشمیر سے فوجیوں کا انخلا کر کے مقامی پولیس کو فوج کی زمہ داری سونپی جائے

محبوبہ مفتی بھارت کے زیر انتظام جموںو کشمیر حکومت کی ایک اہم ساجھے دار جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ بھارتی پارلیمنٹ کی ایک رکن ہیں۔ محبوبہ مفتی ہندوستان کے سابق وزیرداخلہ اور جموںکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی بھی ہیں اسوقت جموںکشمیر کی مخلوط سرکار کو ان ہی کی جماعت کا سپورٹ حاصل ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات