|
افسر ان نوجوانوں کے ساتھ جھوٹے مقابلے کا ذمہ دار تھا۔اس کا
کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ علاقائی فوج (ٹیری ٹورئیل آرمی) کے سابق عملے
کے دو افراد کے ایما پرکھیلا گیا اس نے بتایا کہ ٹیری ٹورئیل
آرمی کی 161ویں ادہ بٹالین کے سابق عملے کے دو افراد قدیر میر
اور عاشق ضسین آٹھ نومبر کو گاوں کے چار نوجوانوں کے ساتھ 14 ویں
راجپوت کے افسروں کے پاس گئے پولیس کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے اس
معاملے کی جو تفصیلی تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوا کہ ٹیری
ٹورئیل آرمی کے سابق عملے کے دو سابق افراد کی طرف سے یہ ایک
ڈرامہ کھیلا گیا تھا تاکہ وہ ہتھیار ڈالنے سے متعلق حکومت کی پالیسی
کے تحت انعام حاصل کرسکیں
اس نے کہا کہ فوج کی طرف سے پوچھ تاچھ کئے
جانے کے بعد دونوں ملزموں کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اس نے کہا
کہ اس سلسلے میں جس طرح کی قانونی کارروائی کی ضرورت تھی وہ
شروع کردی گئی ہے۔فوج کا دعوی ہے کہ انہوں نے آٹھ نومبر کو آ ڑی
سےکٹر میں کنٹرول لائن کے پاس عاشق حسین گنائی، الطاف احمد
اخون، ندیم احمد بھٹ، وسیم احمد خان اور بشیر احمدیہ کو گرفتار کرلیا
یہ سب ضلع بارہ مولا کے رہنے والے ہیں
یہ لوگ ہتھیاروں
کی تربیت حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی طرف متنازعہ کشمیر جارہے
تھے۔فوج نے پیر کے روز ان افراد کو بارہ مولا پولس کے حوالے کردیا۔اس
نائک کا پتہ بارہ مولا میں پولس اسٹیشن پر پوچھ تاچھ کے
وقت چلا جہاں ان نوجوانوں نے فوج کے اس دعوے کی تردید کی کہ پاکستانی
متنازعہ کشمیر جارہے تھے اور کہا کہ انہیں اس معاملے میں
پھنسایا گیا ہے ان نوجوانوں نے دعوی کیا کہ پانچ چھ روز پہلے آڑی کا
ایک شخص ان کے پاس آیااور کہا کنٹرول لائن پر تعینات کے لئے فوج میں
بھرتی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو دو لاکھ روپے نقدی کی صورت میں بھی
دیئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ وہ فوراََ اس شخص کے ساتھ چل دیئے
کیونکہ یہ تو بہت اچھی پیشکش تھی۔ان لڑکوں کے دعوی کے مطابق وہ
شخص انہیں ایک افسر کے پاس لے گیا جس نے کہا کہ ان سب کو ساٹھ
ساٹھ ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ مگر اس افسر نے ایک شرط بھی لگا دی کہ
لڑکوں کو فوج کے سامنے اور میڈیا کی موجودگی میں ہتھیاربھی ڈالنے
پڑیں گے |