|
ایسکورٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ
رحلت فرما گئے
دہلی کالج کے طالب علم انبساط علوی کے صحافتی
سفر کا دائرہ ہندستان سے امریکہ اور برطانیہ تک پھیلا ہوا تھا۔ نیو
یارک ٹائمز اور لندن ٹائمز سے اشاعتی وابستگی کے علاوہ وہ نیو یارک
میں یو این او تھرڈ ورلڈ ریڈیو میں پروڈیوسر کی خدمات بھی
انجام دے چکے تھے
۔1993ء میں وطن لوٹنے کے بعد انہوں نے
آل انڈیا ریڈیو کے اردو خبروں کے شعبے میں بین الاقوامی، قومی اور
علاقائی حالات پر تبصرے لکھنے کے علاوہ ملک کے موقر روزنامہ راشٹریہ
سہارا کے ہفت روزہ ایڈیشن عالمی سہارا کے سیاسی مدیر کی خدمات
انجام دیں ۔ سردست وہ اردو روزنامہ ہندستان ایکسپریس کے ایگزیکٹیو
ایڈیٹر تھے اور ایک ہفت روزہ اخبار معرض وجود میں لانے کی تیاری میں
مصروف تھے
انسباط علوی ’ اردو سروس ڈاٹ نیٹ جرمنی کےلیئے
بھی کالم، تجزیئے لکھا کرتے تھے
ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے بعد
اردو کا تن نیم مردہ جسم
آر ایس ایس کا ریکارڈ غائب
ایڈز 40 ملین افراد متاثر ہیں
عالم اسلام اور برطانیہ کے رابطے
یو این او، دو کوڑی کی تنظیم
اسلام کیاہے ، اسرائیل جمہوری ملک
انبساط علوی کی بے وقت موت کی خبر پر صحافتی
حلقوں کی طرف سے گہرے صدمے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ادھر یو این آئی
اردو سروس میں ممتاز صحافی انبساط علوی کے انتقال پر اظہارتعزیت کے
لیے ایک میٹنگ ایڈیٹر شیخ منظور احمد کی صدارت میں ہوئی جس میں اسٹاف
ممبروںنے انبساط علوی کی ناگہانی موت پرگہرے رنج کا اظہارکیا
مرحوم کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ یہ
دعا بھی کی گئی کہ ان کی بیوی اوربیٹے سمیت پسماندگان کو خدا صبرجمیل
عطا فرمائے
شرکاء نے کہا کہ انبساط علوی کو اس لیے بھی
بہت دنوں تک یاد کیا جائے گا کہ وہ اپنی تحریروں میں استدلال کا دامن
نہیں چھوڑتے تھے اورکسی بھی معاملہ کی تصدیق وتحقیق پر زور دیتے تھے
ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا تھا۔ انہوں
نے جو کچھ لکھا اس میں ملک وقوم کی فلاح کو ہمیشہ مقدم جانا
انبساط علوی اپنے ہم عصروں سے اس لیے الگ تھے
کہ وہ قلم کے اعتبار اور لفظ کی حرمت پر یقین رکھتے تھے
شرکاء میں انیس جامعی، اشہر ہاشمی، ایم اے
عالمگیر، فہیم احمد، مصباح الانظر، شاہ سیف اللہ، عابد انور کے نام
شامل ہیں |