Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 07 November 2006 18:57 (PST)اشاعت

اڑھائی لاکھ افراد نے مزاحمت نہیں کی جان دے دی

ایم طاھر

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، سرینگر

باجوڑ میں امریکہ کے کہنے پر قتل عام کروایا گیا، علی گیلانی

بھارت کے زیر انتظام کشمیرکی علحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے کہنے پر باجوڈکے مدرسہ پر حملہ کرکے وہاں قتل عام کروایا اور جس پاکستان

 کو اسلام کے تحفظ کے لیئے وجود میں لایا کیا تھا مگر وہاں کی حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو کرسی کو بچانے کیلئے پاکستان میں قتل عام کروا رہے ہیں

سید علی شاہ گیلانی سرینگر میں6نومبر1947ہلاک ہونے والوں  کی یاد میں مسلم لیگ جموں کشمیر کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے

سید علی شاہ گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے سامنے آئی تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادیں ااور ان قراردادوں سے باہر کسی بھی حل کو قبول نہیں کیا جاسکتا

انہوں نے میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرس کے ساتھ اتحاد کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پرانے موقف سے انحراف کیا ہے اور جب تک نہ وہ اپنے پرانے موقف پر واپس آجائیں تب تک ان کے ساتھ اتحاد ناممکن ہے

واضح رہے یہ تقریب 6 نومبر 1947کے ان اڈھائی لاکھ  افراد کی یاد میں منعقد کی گی تھی جنہیں ہجرت کے بہانے گاڈیوں میں سوار کر کے سانبہ جموں کے نزدیک ہلاک کیا گیا تھا

تقریب کا انقاد سید علی شاہ گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس کی اکائی مسلم کانفرس نے کیا تھا
ان کاکہنا تھا کہ اگر یہ بات صحیح تھی کہ وہاں پر طالبعلموں کو اسلحہ کی تربیت دی جاتی تھی تو اسکے لئے بمباری کے بجائے سکول کا کریک ڈائون کراکے سکول کی تلاشی لی جانی چاہئے تھی اور اگر یہ معاملہ سچ ثابت ہوتا تو سکول طلبہ اور انتظامیہ کے خلاف ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہونے کے لئے ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا

انہو ں نے کہا اسلام کی بقاء اور اسکے تحفظ کے لئے پاکستان کو وجود میں لایا گیا تھا اور وہاں پر امن آشتی ،نظام عدل اور محبت اور پیار کا نظام ہونا چاہئے تھا مگر وہاں پروہ لوگ حکومت کررہے ہیں جو امریکہ کو خوش کرنے اور اپنی کرسی کو بچانے کے لئے قتل عام کروا رہے ہیں

سید علی شاہ گیلانی نے میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس کے ساتھ اتحاد کوخارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیس سال تک متحد رہنے کے بعد ان لوگوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے بنیادی موقف سے انحراف کیا

انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت اور پاکستانی صدر جنرل پرویزمشرف کی تجاویز کی حمایت کرنا حریت کے موقف کی خلاف ورزی تھی اور خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے ساتھ تب تک اتحاد نہیں کرسکتے جب تک نہ وہ اپنے دیرینہ موقف پر واپس آجائیں

۔6نومبر1947ء کے واقع کی ذکرکرتے ہوئے سیّدعلی گیلانی نے کہا کہ 6نومبر کو اڑھائی لاکھ سے زائد لوگوں نے بڑی بے بسی میں اپنی جان دی، کافی تعداد میں ہونے کے باوجود انہوں نے مزاحمت نہیں کی جبکہ مسلمان کو بے بسی میں جان دینے کے بجائے مزاحمت کرنی چاہئے

ان کا کہنا تھاکہ ’’شہیدوں‘‘ کاخون تب رنگ لائے گا جب ہم ثابت قدم رہ کر انکے مشن کو آگے بڑھائیں گے ، آج کے دن ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ مشترکہ ہندوستان کی 562ریاستوں میں سے 561ریاستوں کا فیصلہ ہوا جبکہ جموں وکشمیر ایک واحد ریاست ہے جسکا فیصلہ ہونا باقی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات