|
ان کا استقبال کیا۔ صدر اے پی جے
عبدالکلام کی دعوت پر کسی چینی صدر کا گزشتہ دس برسوں میں یہ پہلا
دورہ ہے، جس کے دوران توقع ہے کہ دونوں ممالک باہمی سرمایہ کاری تحفظ
معاہدہ (بی آئی پی اے) سمیت دس معاہدوں پر دستخط کریں گے
اس سے پہلے جیانگ زی من1996میں
ہندوستان آئے تھے جب کہ چینی وزیر اعظم ون جےاو باو نے گزشتہ سال
اپریل میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور اسٹریٹیجک شراکت پر دستخط
کئے تھے۔چینی صدر کو کل راشٹرپتی بھون میں ایک شاندار
استقبالیہ دیا جائے گا، جس کے بعد وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ
ملاقات کریں گے
وزیر اعظم چینی صدر کے اعزاز میں
ایک ظہرانہ دیں گے۔اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود
اہم باہمی، علاقائی اور بین اقوامی امور پر بات چیت کریں
گے۔نائب صدر بھیروں سنگھ شیخاوت اور ترقی پسند اتحاد کی سربراہ سونیا
گاندھی سمیت مختلف رہنما کل ان سے ملاقات کریں گے
شام کو چینی صدر صدر اے پی جے
عبدالکلام سے ملاقات کیں گے۔ وہ ہندوستانی کونسل برائے عالمی امور سے
بھی خطاب کریں گے۔بدھ کو اپوزیشن کے رہنما ایل کے اڈوانی ان سے
ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد چینی صدر آگرہ اور ممبئی کے لئے روانہ
ہوجائیں گے۔ ممبئی میں وہ مہاراشٹر کے وزیراعلی راوو ولاس راوو دیش
مکھ سے ملاقات کریں گے۔توقع ہے کہ چینی صدر کے اس دورہ سے دونوں
پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید پختگی پیدا ہوگی اور
اسٹریٹیجک شراکت کو ٹھوس بنیاد فراہم ہوگی
چینی صدر کل ہند۔امریکہ
ہندغیر فوجی نیو کلئیر معاہدہ سمیت متعدد امور پر وزیر اعظم کے ساتھ
بات چیت کریں گے۔اس ملاقات کے دوران45ملکی نیو کلیئر گروپ نیو کلئیر
سپلائرس گروپ (این ایس جی) کے رول پر بھی گفتگو متوقع ہے، جس
کی منظوری مذکورہ معاہدہ کے نفاذ کے لئے ضروری ہے۔چےن بھی این
ایس جی کا رکن ہے
اس دوران حکام نے سرحدی امور کے
سلسلہ میں پیش رفت کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کو مسئلہ
کو حل کرنے میں دلچسپی ہے اور ہم اس پر توجہ دے سکتے ہیں ۔تبت کے
بارے میں حکام نے کہا کہ ہندوستان کے اس موقف سے سب لوگ واقف ہیں کہ
تبت ایک خود مختار خطہ ہے |