|
کا کہنا ہے کہ
بھارت اور پاکستان سکھوں کےلیئے علیحدہ ریاست ََ خالصتان ََ
پر بات چیت کریں
سکھ کئی برسوں سے
بھارت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک علیحدہ ریاست بنانا چاہتے ہیں
بھارتی حکومت نے
سن 1984 میں سکھوں
کی علیحدگی کے مطالبے پر سکھوں کے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا تھا جس
میں سینکڑوں سکھ ہلاک ہو گئے تھے اور گولڈن ٹیمپل جو دنیا میں
سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے کو سخت نقصان پہنچا تھا
سکھوں کے گولڈن
ٹیمپل پر حملے کا حکم اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دیا تھا
میڈیا کے مطابق
امریکی کانگریس وفد کے سربراہ ڈان برٹن نے اپنے دوری بھارت کے
دوران نئی دہلی میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات
چیت کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ سکھوں کی
علیحدہ ریاست کے قیام کےلیئے مذاکرات کریں
سکھوں کی علیحدہ
ریاست ََ خالصتان ََ بنائے جانے پر پاکستان کے کردار
کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان اس مسئلے کے حل
کےلیئے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں
واضع رہے سکھوں
کی طرف سے جس علیحدہ ریاست کا کہا جا رہا ہے اس میں بھارت اور
پاکستان کا پنجاب شامل ہے
بھارت کا دورہ
کرنےوالے امریکی کانگریس کے وفد کے رہنما ڈان برٹن کے پاکستان کو
اس مسئلے میں شامل کرنے کا واضع مطلب ہے کہ پاکستان سکھوں کی
علیحدہ ریاست خالصتان کےلیئے بھارت اور پاکستان کے پنجاب کے مطالبے
پر بات چیت کرے ، اس طرح اب پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل پر ہی
نہیں بلکہ مسئلہ خالصتان پر بھی دباؤ کا سامنا ہوگا |