ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:19 PSTاشاعت

 

مذہبی لحاظ سے ہندو گوشت نہیں کھاتے

 

یاسمین خان ۔ نئی دہلی

اردو سروس۔نیٹ

 

یورپ میں کتوں اور بلیوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جاتا ہے

 ماؤ نواز باغیوں کی سرکوبی کےلیئے تعینات کیئے گئے پولیس دستے نے علاقے کے دو ہزار پانچ سو کتوں کو کھا لیا۔ ان پولیس اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں علاقے کے دو ہزار کتوں کو ہلاک کر کے ان کا گوشت کھالیا ہے جبکہ پولیس دستے کے سربراہ کا کہنا ہے ہم آوارہ کتے

نہیں کھاتے بلکہ صحت مند کتوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ واقعہ چھتیس گڑھ میں پیش آیا ہے۔ پی اے ایف نامی ادارے کے صدر پونم چند نے اس واقعہ کیخلاف احتجاج کرنے کا کہا ہے

ناگا لینڈ میں ماؤ نوا باغیوں کی سرکوبی کےلیئے متعین کیئے جانے والے دستے کی کارگردی کو سراہا گیا ہے تاہم اس دستے پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں علاقے کے دو ہزار پانچ سو کتے کھا لیئے

یہاں ایک اخبار کے مطابق پولیس اہلکار جس علاقے بس تر میں متعین ہیں وہ علاقہ ماؤ نواز باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اس پالیس دستے نے علاقے میں بہتر کاتگردی کا مطاہرہ کیا ہے تاہم ان پر تحفظ حیوانات کی تنظیموں نے سخت تنقید کی ہے

حیوانات کے تحفظ کی تنظیم کا کہنا ہے ہم پولیس اہلکاروں کی کتا خوری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کرینگے

پولیس نے کتا خوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آوارہ کتوں کا گوشت نہیں کھاتے بلکہ صحت مند کتوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ایسے کتوں کی قیمت دو سو سے دو سو پچاس روپے ادا کی جاتی ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں