|
نہیں کھاتے بلکہ
صحت مند کتوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ واقعہ چھتیس گڑھ میں پیش آیا
ہے۔ پی اے ایف نامی ادارے کے صدر پونم چند نے اس واقعہ کیخلاف
احتجاج کرنے کا کہا ہے
ناگا لینڈ میں
ماؤ نوا باغیوں کی سرکوبی کےلیئے متعین کیئے جانے والے دستے کی
کارگردی کو سراہا گیا ہے تاہم اس دستے پر الزام عائد کیا گیا ہے
انہوں علاقے کے دو ہزار پانچ سو کتے کھا لیئے
یہاں ایک اخبار
کے مطابق پولیس اہلکار جس علاقے بس تر میں متعین ہیں وہ علاقہ ماؤ
نواز باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اس پالیس دستے نے علاقے میں
بہتر کاتگردی کا مطاہرہ کیا ہے تاہم ان پر تحفظ حیوانات کی تنظیموں
نے سخت تنقید کی ہے
حیوانات کے تحفظ
کی تنظیم کا کہنا ہے ہم پولیس اہلکاروں کی کتا خوری کیخلاف احتجاجی
مظاہرہ کرینگے
پولیس نے کتا
خوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آوارہ کتوں کا گوشت نہیں
کھاتے بلکہ صحت مند کتوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ایسے کتوں کی قیمت
دو سو سے دو سو پچاس روپے ادا کی جاتی ہے
|