|
دو ہزار افراد کے
ہلاک ہونے کا کہا جا رہا ہے جبکہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں
جموں کشمیر میں فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی خبر ہے جن کے بارے میں
کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد 68
ہے جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ
ہوا ہے
مقامی لوگوں کا
کہنا ہے کہ سینکڑوں فوجی ہلاک ہوئے ہیں جن کوبھارتی فوج نے سب سے
پہلے علاقے سے نکالنے کی کوشش کی ہے
جموں کشمیر میں
تیس سے پینتیس ہزار خاندانوں پر یہ آفات پڑی ہے
زلزلے میں ہلاک
ہونے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد میں خطرناک حد
تک اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی تک بہت ساری جگہوں ایسی ہیں جہاں
امداد نہیں پہنچی
کشمیر میں امداد
نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ بیوروکریسی کو بھی کہا جا رہا ہے
بھارت کے وزیر
اعظم منموہن سنگھ نے جموں کشمیر کے علاقوں کا دورہ کیا ہے اور
امدادی کاموں میں بھی تیزی بھرنے کا کہا ہے
دیسی اور بدیشی
امدادی ٹیمیں کشمیر میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں لیکن کئی مقام
پر اب تک نہیں پہنچا جا رہا کیونکہ راستے بند ہو گئے ہیں
جموں کشمیر کے
متاثرہ علاقوں میں اری سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ، سرینگر اور اس کے
گردونواح میں علاقے کے سینکڑوں مکان اور عمارتیں زمین بوس ہو گئی
ہیں
کئی گھروں میں
ایک ہی خاندان کے کئی رکن ہلاک و زخمی ہوئے ہیں ،فوج اور دوسری
امدادی تنظیمیں ہنگامی سطع پر امدای کارروائیوں میں مصروف ہیں
جموں کشمیر رابطہ
کرنے پر معلوم پڑا ہے کہ کئی علاقوں میں پہاڑوں سے تودے اور بڑے پتھر
گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں
|