|
خان کے نیٹ ورک
کی بھی جانچ پڑتال کرنی چاہیئے
ان کا کہنا تھا
کہ ایران کے نیو کلیر پروگرام کےلیئے میٹریل دینے اور اس میں مدد
کرنے والے ممالک کا بھی جائزہ لینا چاہیئے
شیام سرن نے
سیمینار میں جو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے بارے میں منعقد کیاگیا تھا میں
کہا کہ اس کی سلامتی کو اس کے پڑوس کے نیو کلیر پروگرام سے خطرہ ہے
انہوں نے مغربی
دنیا کی وجہ پاکستان کے سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک
کی طرف بھی دلوائی اور کہا ہے ان کے نیٹ ورک کی بھی جانچ پڑتال کی
جائے
شیام سرن کا کہنا
تھا کہ ان کے پڑوس میں خفیہ نیو کلیر پروگررام کی وجہ سے بھارت کی
سلامتی کو خطرہ ہے
شیام سرن نے کہا
کہ بھارت یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ دنیا بھر کے نیو کلیر پروگرام
پر ایک متفقہ فیصلہ ہونا چاہیئے
شیام سرن نے
بھارت کے ایران کیخلاف دیئے جانے والے ووٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا
کہ بھارت نے ایران کیخلاف ووٹ ایران کی بھلائی کےلیئے دیا تھا
کیونکہ بھارت چاہتا تھا کہ ایران کا مسئلہ سلامتی کونسل میں جانے
سے روکا جائے جو کہ بھارت کی اس کوشش سے سلامتی کونسل میں نہیں گیا
یہاں میڈیا کے
مطابق مسٹر سرن نے
بھارت کے نیو کلیر پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت
ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاؤ پر یقین رکھتا ہے اور بھارت کی اس
پالیسی کو دنیا نے تسلیم کیا ہے
واضع رہے ویانا
میں ایران کیخلاف پابندیاں عائد کی جانے کی راہ ہموار کرنے کےلیئے
ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی گئی
تھی جس میں بھارت نے ایران کیخلاف ووٹ دیا تھا |