|
(ٹائیگر مین کا ساتھی) منوج کمار
گپتا اور محمد قاسم لاج پریہ ہیں
ٹاڈا عدالت کے جج پی ڈی کوڈے نے انہیں ٹائگر مین اور اس کے ساتھیوں
کی مدد کرنے کے مجرم قرار دیا۔عدالت نے اسے مہاراسٹر کے ڈگی اور
شیکاڈی ساحلی علاقوں ہتھیار اترنے اتارنے اور اسے پہنچانے کا قصوروار
ٹھہرایا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ فیصلہ سناتے وقت جج نے یہ
بات نوٹ کی کہ حالانکہ سید دھماکے کرنے کی سازش میں شریک تھا
مگر اس نے عملی طور پر اس میں شرکت نہیں کی
سید کو مجرم قرار دیتےہوئے عدالت نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے
بیانات پر انحصار کیا جس میں انہوں نے سید کا نام لیا ہے اور اس کا
رول بیان کیا ہے۔ یہ بیانات ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ایک اور ملزم
منوج کمار کو ساحل پر ہتھیاراتارنے کا مجرم قرار دیا گیا مگر اسے
ہتھیاروں کی تربیت کا کیمپ چلانے کے الزام سے بری کردیا گیا
منوج کو آرمز ایکٹ کے تحت بھی مجرم قرار دے دیا گیا۔ خصوصی
تحقیقاتی ٹیم نے منوج کی قیام پر چھاپہ مار کے دو پستول،ایک ریوالور
اور دیسی ساخت کا ہتھیار برآمد کیا تھا
اسے آ ر ڈی ایکس کے 59 تحت بھی سمندر میں پھینکنے
کا مجرم قرار دیا گیا بوئنکر، عباس شیکھدارے اور
شاہ جہاں شیکھدارے کسٹم ایکٹ کی دفعہ111کے تحت خاطی پائے گئے
ہیں
مزید
تین افراد ملزم قرار ٹاڈا عدالت نے آج یہاں 1993کے ممبئی
بم دھماکوں کے تین ملزمان کو قصور وار پایا، جن کے ٹرالروں کے ذریعہ
دھماکوں کے اصل ملزم ٹائیگر میمنکو فروری 1993 میں خطرناک
ہتھیار اور گولہ بارود شےکھاڑی (رائے گڑھ) لانے میں مدد دی تھی۔یشونت یہ لوگ اب تک ضمانت پر رہا
تھے۔اس بیچ ٹاڈا جج پی ڈی کوڈے نے شہادتوں کے فقدان کی وجہ سے
دیگر دو ملزمان اسماعیل پٹیل اور محی الدین ادر کو بری کردیا محی
الدین نے دوبئی میں مفرور ملزم طاہر نکلیہ سے ملاقات کی تھی
سی بی آئی کے مطابق طاہر نے اسے ممبئی کے فسادات کی ویڈیو کلیپنگ
دکھائی تھی، جن میں ایک مخصوص فرقے کے لوگوں کی تکلیف
دکھائی گئی تھی۔ الزامات ہیں کہ ویڈیو فلم دیکھنے کے بعد ان لوگوں نے
بدلہ لےنے کے لئے دہشت گردی کی سازش کی تھی
پٹیل پر بہرحال ملزم عبد العزیز شیخ کو سرمایہ فراہم
کرنے کا الزم ہے، جو دھماکوں کی سازش کے لئے دوبئی گیا تھا۔ء کے
لگاتار بم دھماکوں کے ملزم نمبر 19 یشونت بونکر پر الزام تھا کہ اس
نے تین اور سات فروری 1993ء کو ہتھیایوںاور گولہ بارود کی
سمندر سے ساحل تک ترسیل کے لئے ٹائیگر میمن کو اپنی کشتیاں دی
تھیں عدالت نے بہرحال اسے ٹاڈا
الزامات سے اس بنیاد پر بری کردیا کہ ملزم کو پتہ نہیں تھا کہ سامان
لایا جارہا ہے۔ بہرحال اسے کسٹم ایکٹ کی وسط اور (دفعہ 135 کے
ساتھ پڑھیں) کے تحت خاطی قرار دیا گیا
عباس شیکھدار اور شاہجہاں شیکھدار
نے نامی دونوں بھائیوں کی کشتیاں بھی استعمال کی گئی تھیں
کسٹم ایکٹ کے تحت یہ لوگ بھی
قصوروار ٹھہرائے گئے ہیں ۔بوئنکر اور دونوں بھائی پندرہ ماہ حراست
میں گزار چکے ہیں اور ضمانت پر رہا کردیئے گئے تھے
خاطی قرار دیئے جانے پر یہ لوگ روپڑے۔ کیونکہ انہوں نے زیادہ سے
زیادہ تین ماہ کی سزا ہوسکتی ہے اور جرمانہ بھی عائد ہوگا |