Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 17 October 2006 20:50 (PST)اشاعت

ٹاڈ عدالت کی طرف سے مزید تین افراد قصوروار

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

حالیہ ممبیہ دھماکوں میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا

ممبئی کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے آج 1993 دھماکوں کے معاملے میں تین ملزموں کو مجرم قرار دیا۔ ان میں  سب سے بڑے مفرور مجرم ٹائگر مین کا ایک قریبی ی ساتھی بھی ہے۔جن تین  ملزموں کو مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں سےد عبدالرحمان

(ٹائیگر مین کا ساتھی) منوج کمار گپتا اور محمد قاسم لاج پریہ ہیں

ٹاڈا عدالت کے جج پی ڈی کوڈے نے انہیں ٹائگر مین اور اس کے ساتھیوں کی مدد کرنے کے مجرم قرار دیا۔عدالت نے اسے مہاراسٹر کے ڈگی اور شیکاڈی ساحلی علاقوں ہتھیار اترنے اتارنے اور اسے پہنچانے کا قصوروار ٹھہرایا۔یہ  بات قابل ذکر ہے کہ فیصلہ  سناتے وقت جج نے یہ  بات نوٹ کی کہ حالانکہ سید دھماکے کرنے کی سازش میں شریک  تھا مگر اس نے عملی طور پر اس میں شرکت نہیں کی

سید کو مجرم قرار دیتےہوئے عدالت نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بیانات پر انحصار کیا جس میں انہوں نے سید کا نام لیا ہے اور اس کا رول بیان کیا ہے۔ یہ بیانات ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ایک اور ملزم منوج کمار کو ساحل پر ہتھیاراتارنے کا مجرم قرار دیا گیا مگر اسے ہتھیاروں کی تربیت کا کیمپ  چلانے کے الزام سے بری کردیا گیا

منوج کو آرمز ایکٹ  کے تحت بھی مجرم قرار دے دیا گیا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے منوج کی قیام پر چھاپہ مار کے دو پستول،ایک ریوالور  اور دیسی  ساخت کا ہتھیار برآمد کیا تھا

اسے آ ر ڈی ایکس  کے 59 تحت  بھی سمندر میں پھینکنے  کا مجرم قرار دیا گیا بوئنکر، عباس شیکھدارے  اور شاہ جہاں شیکھدارے  کسٹم ایکٹ کی دفعہ111کے تحت خاطی پائے گئے ہیں

مزید تین افراد ملزم قرار

ٹاڈا عدالت نے آج یہاں 1993کے ممبئی بم دھماکوں کے تین ملزمان کو قصور وار پایا، جن کے ٹرالروں کے ذریعہ دھماکوں کے اصل ملزم ٹائیگر میمنکو فروری 1993 میں  خطرناک ہتھیار اور گولہ بارود شےکھاڑی (رائے گڑھ) لانے میں مدد دی تھی۔یشونت

یہ  لوگ اب تک ضمانت پر رہا تھے۔اس بیچ  ٹاڈا جج پی ڈی کوڈے نے شہادتوں کے فقدان کی وجہ سے دیگر دو ملزمان اسماعیل پٹیل اور محی الدین ادر کو بری کردیا محی الدین نے دوبئی میں مفرور ملزم طاہر نکلیہ سے ملاقات کی تھی

سی بی آئی کے مطابق طاہر نے اسے ممبئی کے فسادات کی ویڈیو کلیپنگ دکھائی تھی، جن میں ایک  مخصوص فرقے کے لوگوں کی تکلیف  دکھائی گئی تھی۔ الزامات ہیں کہ ویڈیو فلم دیکھنے کے بعد ان لوگوں نے بدلہ لےنے کے لئے دہشت گردی کی سازش کی تھی

پٹیل پر بہرحال ملزم عبد العزیز شیخ  کو سرمایہ  فراہم کرنے کا الزم ہے، جو دھماکوں کی سازش کے لئے دوبئی گیا تھا۔ء کے لگاتار بم دھماکوں کے ملزم نمبر 19 یشونت بونکر پر الزام تھا کہ اس نے تین  اور سات فروری 1993ء کو ہتھیایوںاور گولہ بارود کی سمندر سے ساحل تک ترسیل  کے لئے ٹائیگر میمن کو اپنی کشتیاں دی تھیں

عدالت نے بہرحال اسے ٹاڈا الزامات سے اس بنیاد پر بری کردیا کہ ملزم کو پتہ نہیں تھا کہ سامان لایا جارہا ہے۔ بہرحال اسے کسٹم ایکٹ  کی وسط اور (دفعہ 135 کے ساتھ پڑھیں) کے تحت خاطی قرار دیا گیا

عباس شیکھدار اور شاہجہاں شیکھدار نے نامی دونوں بھائیوں کی کشتیاں بھی استعمال کی گئی تھیں

کسٹم ایکٹ کے تحت یہ  لوگ بھی قصوروار ٹھہرائے گئے ہیں ۔بوئنکر اور دونوں بھائی پندرہ ماہ حراست میں گزار چکے ہیں  اور ضمانت پر رہا کردیئے گئے تھے

خاطی قرار دیئے جانے پر یہ لوگ روپڑے۔ کیونکہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی سزا ہوسکتی ہے اور جرمانہ بھی عائد ہوگا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات