Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 19 October 2006 07:59 (PST)اشاعت

انصاف کےلیئے جانکاہ انتظار کرنا پڑتا ہے

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

پریا کی ایک دوست وکٹری کا نشان بناتے ہوئے

ٹھیک ہی کہا گیا ہے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ حصول انصاف کے لیے بعض اوقات جانکاہ انتظار کے مراحل سے گزرنا پڑجاتا ہے اوراس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اورتفتیش کاروں کی کارستانیاں اپنے جلوے کچھ اس انداز

سے دکھا جاتی ہیں جن سے مجرمین کو کلین چٹ مل جایا کرتی ہے اور متاثرین ہتھیلیاں ملتے ہی رہ جاتے ہیں

دہلی کا پریہ درشنی مٹو قتل معاملہ کچھ ایسی ہی کیفیت کو پیش کررہا ہے۔پریہ درشنی مٹو کی آبرو ریزی کی گئی تھی اوراس کے بعد اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا

یہ واقعہ 1996 میں رونما ہوا تھا اور ملزم کی حیثیت سے ایک ایسے شخص کا نام سامنے آیا تھا، جس کا باپ پولس کا ایک اعلیٰ اہلکارتھا۔ ہرچند کہ سنتوش سنگھ نامی اس ملزم کے خلاف آبروریزی اور قتل کے پختہ ثبوت و شواہد موجود تھے، لیکن اس کے باوجود سنتوش کو ’ثبوتوں کی عدم فراہمی‘کی بنیاد پر’باعزت ‘ بری کردیا گیا تھا

 بھلا ہو میڈیا کے اس کردار کا جس نے ملزم کی کریہہ صورت کو نہ صرف یہ کہ بے نقاب کیا بلکہ اس معاملے کو ایک تحریک کی شکل دے دی گئی ۔ نتیجتاً ایک بار پھر نچلی عدالت سے’باعزت‘بری ہونے والا یہ ملزم قانون کے سخت شکنجے میں کس دیا گیا۔ ازسرنو معاملے کی تفتیش کا عمل شروع ہوا اورتحقیقات کا یہ دوسرا سفر اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے ساتھ ہی ساتھ ملزم سنتوش سنگھ کو مجرم کے کٹہرے میںکھڑا کرگیا

یوں تو آج دہلی ہائی کورٹ نے ملزم کو آبروریزی اور قتل کے معاملے میں قصوروار ٹھہرادیا ہے، تاہم سزا کا تعین ابھی ہونا باقی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ دیوالی اور عید کی تعطیل گزرجانے کے بعد جب عدالت دوبارہ کھلے گی تو زانی اورقاتل سنتوش سنگھ کے خلاف سزا کا باضابطہ تعین عمل میں آئے گا

حالانکہ وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتاکہ سنتوش کو اس سنگین جرم کے لیے سزائے موت دے دی جائے گی،لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ آبروریزی اور قتل کے معاملے میں جرم ثابت ہونا کسی سخت فیصلے کا ہی غماز ہے۔ یوں تو سی بی آئی نے عدالت سے یہ مطالبہ کیا ہوا ہے کہ وہ اس ملزم کے خلاف جو اب مجرم قرار پاچکا ہے سزائے موت کاتعین کرے

دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ مٹو آبروریزی معاملہ کے اس کلیدی مجرم کے لیے کیا سزا تجویز کی جاتی ہے۔پریہ درشنی مٹوقتل معاملہ میںملزم کانچلی عدالت سے بری ہونا اور سخت مزاحمت کے بعد ازسر نو واقعے کی تفتیش کرانا اوربعد از دوبارہ تفتیش ملزم کا مجرم قرار پانا کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔اس واقعے سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اقربا پروری کی کیسی کیسی گھٹیا مثالیں پیش کرتے رہے ہیں جنہیں سبق سکھانے والا کوئی نہیں ہے

ملزم کے والد کا محکمہ پولس کے اعلیٰ عہدے سے وابستہ ہونا درحقیقت نچلی عدالت سے اسے باعزت بری کیے جانے کا محرک بنا تھا، یہ بات آج پوری طرح کھل کر اس وقت سامنے آگئی جب عدالت نے ملزم خاص سنتوش سنگھ کو زانی اورقاتل تسلیم کرلیا۔ گویا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خود ملزم کا ایڈوکیٹ ہونا اوراس کے باپ کا پولس ہونا نچلی عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کے لیے کافی رہا۔ بالفاظ دیگر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگرآپ صاحب ثروت ہوں، باحیثیت ہوں،آپ کا کوئی قریبی رشتہ دارپولس کے اعلی عہدے پرفائز ہو توآپ جرم کے باوجود نچلی عدالتوں سے باعزت بری ہوسکتے ہیں

سوال یہ ہے کہ اس صورت حال سے کس طرح نمٹا جائے جس سے بے قصوروں کوتختہ دار پر چڑھانے کی روایت ختم ہوسکے اور قصور واروںکو کلین چٹ دے دینے کا سلسلہ بند کیا جاسکے۔نچلی عدالت کا ایک ہی معاملہ میں ملزم کوباعزت قرار دینا اور اعلیٰ عدالت کے ذریعہ دفعہ 376 اور دفعہ 302 کا مجرم قرار دینا کیا اس بات کوظاہر نہیں کرتا کہ پولس کی وردی کا غلط استعمال کرتے ہوئے عدالت کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟کیا یہ امید کی جائے کہ قانون کا اس طرح مذاق اڑانے والوں کو بھی کوئی سزا ملے گی جو مجرم کو بری کرانے کے محرک رہے تھے

یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ نچلی عدالت سے بری ملزم کو مجرم قرار دیا گیا ہوبلکہ ادھر حال کے دنوں میں اس طرح کے کئی ایسے وقوعے منظر عام پر آتے رہے ہیں ۔لہذا اس کے تدارک پر عدالت اور حکومت دونوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات