|
ِِِِِِِِِِ کنبوں پر اس رحم کا کےا
اثر پڑ سکتا ہے
جسٹس اریجیت پسائت اور ایس ایچ
کپاڈیہ پر مشتمل ایک بنچ نے ایک قتل میں سزا
پانے والے گورو ونکیا ریڑی کو گورنر کی طرف سے ملی معافی کو منسوخ
کرتے ہوئے کہا دھوکہ سے حاصل کی گئی یا غلطی سے دی گئی معافی پر
عدالتی نظرثانی کی جائے گی
عدالت نے کہاکہ قانون کی بالادستی
قائم رہنی چاہئے اور اس کے لئے نظام حکومت قانون کے مطابق چلنی چاہئے
اور قانون کی حکمرانی آہنی ڈھانچہ کی بنیاد ہے
عدالت نے مزید کہاکہ معافی دینا
سرکاری فرائض کی انجام دہی کا معاملہ ہے اور اگر اس میں غیر ضروری
پہلو یا سیاسی مصحلتوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے تو اس طرح کا
طرزعمل آرٹیکل72اور161کے تحت دیئے گئے آئینی اختیارات کی خلاف ورزی
ہے۔تاہم عدالت نے گورنر کو اپنے فیصلہ پر نظرثانی کی اجازت دے دی
واضح رہے کہ مجرم کو ایک ذیلی
عدالت نے عذردار اپورو سودھاکر کے والد کے قتل کے الزام میں عمر قید
کی سزا سنائی تھی۔ اس عدالت نے تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے
اسے دس سال کردیا
اس وقت کے گورنر سشمیل کمار شنڈے جو
اس وقت مرکزی بجلی وزیر ہیں ، رےڈی کو جو کانگریس کا رہنما اور
جس کی بیوی ریاست میں کانگریس کی ایم ایل اے ہے، معافی دے دی
تھی
عدالت نے یہ بھی کہاکہ چوں کہ صدر
اور گورنر سزاوں میں تخفیف کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے
اکیلے جج ہوتے ہیں اس لئے انہیں معافی دیتے ہوئے عدالتی فلاح و
بہبود کو بھی پوری طرح ذہن میں رکھنا چاہئے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد
افضل گرو کے معاملہ پر جس کے لئے کی گئی معافی کی درخواست صدر اے پی
جے عبدالکلام کے پاس ہے، اس فیصلہ کا اثر پڑ سکتا ہے
کیونکہ جموں اور کشمیر کے
سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر رحم کئے جانے
کے لئے دباوبنانے کی کوشش کر رہی ہیں
مگر حملہ میں مرنے والے پولیس
اہلکاروں کے کنبوں نے معافی دیئے جانے کی سختی سے مخالفت کی ہے اور
آج صدر سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں |