Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 08 October 2006 10:52 (PST)اشاعت

پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے، پولیس پر الزام

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

پولیس پر فسادیوں سے نرمی برتنے کا الزام

کرناٹک کے شہرمنگلور میں فرقہ وارانہ تشدد کی لہریں دور تک پھیلتی چلی جارہی ہیں اور تازہ ترین واقعے میں تین امام مسجد کو قتل کردیا گیا ہے جبکہ 30سے زائد دکانوں کو لوٹا اور جلایا گیا ہے۔حالانکہ حکام نے کل ہی فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی

مار دینے کا حکم جاری کردیا گیا تھا

تاہم اس کے باوجود تشدد کی یہ وارداتیں رونما ہوئیں۔ شہر میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور پولس کے جوان مسلسل سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔اس درمیان کرفیو زدہ علاقوں میں توسیع کردی گئی ہے۔دو فرقوں کے درمیان ہونے والے اس تصادم میں سرکاری طور پرصرف ایک شخص کے مارے جانے اور 70لوگوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے

لیکن دیگر ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔یہاں سے 75کلو میٹر دور سلیا تعلقہ کے پتھرائو میں زخمی ہونے والے 22سالہ عبد الغفور کی ایک پرائیویٹ اسپتال میں موت ہو گئی۔بتایا جاتا ہے کہ ہندو فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کی کئی مساجد کو نشانہ بنایا ہے۔ مسجد شاہ میر منگلور کے امام و خطیب و صدر جمعیتہ علماء منگلور مولانا عبد القادر کے مطابق منگلور کی تین مساجد کے امام لا پتہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فرقہ پرستوں نے انہیں قتل کر دیا ہے

سرکاری ذرائع نے بھی ایک امام عبد الغفورر کے قتل کی تصدیق کی ہے ۔فسادیوں نے انہیں چاقوؤں سے گود گود کر مار ڈالا تھا۔دریں اثناء کرناٹک کے وزیر داخلہ ایم پی پرکاش نے بھی بجرنگ دل ،شیو سینا، وشو ہندوپریشد اور سری رام سیناپر تخریب کاری میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے

خیال رہے کہ منگلور کی یہ پرانی تاریخ رہی ہے کہ فرقہ پرست عناصرفسادات کے دوران خاص طور سے مساجد کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں اور وہاں کے ذمہ داروں پر جان لیوا حملے کرنے سے نہیں چوکتے۔جن مساجد کے اماموں کے مارے جانے کی خبر ہے ان میں وجئی مسجد کے امام ،منگلور سے متصل شہر سورت مل کے امام،بیکم پاڑی کی مسجد کے امام شامل ہیں
ساحلی شہر میں اس وقت فساد شروع ہوا جب ہندو فرقہ پرستوں نے مقامی سلاٹر ہائوس میں لے جائے جارہے جانوروں کو یہ کہہ کر پکڑ لیا کہ اس میں گائےں لے جائی جا رہی ہیں۔فرقہ پرستوں نے اس کے بعد لوٹ مار اور آتشزنی کا بازار گرم کردیا جس کے بعددو فرقوں کے درمیان جم کر پتھرائو ہوااورپولس کو شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو لگانا پڑا

بتا یاجاتا ہے کہ مسلمانوں کو عدم تحفظ کا زبردست احساس ہے۔ درےں اثناء آئی جی پی ستیہ نارائن راو نے بتاےاکہ فرقہ وارانہ فسادات میں 70افراد زخمی ہوئے ہیں  جبکہ فسادیوں نے30 دکانےں لوٹی اور جلائی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ فساد سے متاثرہ علاقے میں کشیدگی ضرور ہے لیکن حالات قابو میں ہیں ۔ پولیس  نے سڑکوں پر فلیگ مارچ کیا

تشدد کے واقعات کے سلسلے میں  اب تک 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کے ڈائرکٹر جنرل بی ایس سیال جو آج صبح ہی حالات کا جائزہ لےنے کے لئے بنگلور سے یہاں  پہنچے ہیں انہوں نے حساس علاقوں کا دور کرنے کے بعد ضلعی پولس کے ذریعہ حالات سے نمٹنے کے طریقوں  پر ناراضگی کا ظاہر کی ہے

انہوں نے کہا کہ پولس نے صرف احتیاطی قدم کے طور پر ہی کرفیو نافذ کیا تھا جبکہ فسادیوں نے اس نرمی کا فائدہ اٹھاکر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔دوسری جانب مسلم تنظیموں  کے بھی پولس کے طریقوں پر ناراضگی ظاہر کی گئی ہے

ملی کونسل کے صدر نے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین  مسٹر کے رحمٰن خاں اور احمد پٹیل جیسے  مسلم کو متاثرہ علاقوں میں  صورتحال کا جائزہ لینے اور کشیدگی دور کرانے کے لئے ذمہ دار افسران سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انہوں نے شہر کی پولس پر یکطرفہ  کارروائی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات