|
آصف اقبال، محمد عزیز، محمد
شمیم، محمد نسیم اور عرفان خان عدالت میں موجود تھے
ایڈوکیٹ اوپی سنہا کے مطابق جمعرات
کو ان سبھی ملزمان پر دفعہ302، دفعہ307 اور دفعہ120 سمیت کئی مجرمانہ
اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق قانون کی دفعات عائد
کی گئیں
سنہا نے بتایا کہ عدالت کے ذریعہ
مقرر فریق ثانی کے وکیل کے طور پر پہلی بار آر کے تیواری نے ان
ملزمان کی جانب سے دلیلیں پیش کیں۔ عدالت نے فیض آباد کے ضلع مجسٹریٹ
اور ایس ایس پی کو ملزمان کیلئے سرکار کی جانب سے فراہم کرائے گئے
وکیل آر کے تیواری کیلئے تحفظ کے پختہ انتظامات کرانے کی ہدایات دی
ہیں
سنہا کے مطابق ضلع اینڈ سیشن جج نے3
نومبر سے روزانہ سماعت کے بھی احکامات جاری کےے ہیں۔ ان احکامات کے
تحت اجودھیا پر دوسرے دہشت گردانہ حملے کے واقعے کی روزانہ سماعت
آئندہ3 نومبر سے یقینی بنائی جائے گی
غور طلب ہے کہ5 جولائی2005 کو بابری
مسجد کے جائے مقام پر عارضی طور پر قائم رام مندر پر دہشت گردانہ
حملہ ہوا تھا اس دوران سلامتی دستوں کی جوابی کارروائی میں تمام دہشت
گرد مار گرائے گئے تھے
حملے کے اس واقعے کے بعد جائے مقام
سے ایک مقامی ہندو شہری کی لاش بھی پائی گئی تھی۔ تفتیشی کارروائی کے
دوران جن افراد کو گرفتار کیا گیا اور آج جن کے خلاف الزامات طے کیئے
گئے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کی اعانت کی تھی |