Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 20 March 2006 20:23 (PST)اشاعت

جرمنی نے ہالینڈ کے فلم آئیڈیا کو پسند کیا ہے

 

یورپ میں ایک کروڑ کے قریب غیر ملکی آباد ہیں جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے

ہالینڈ میں مبینہ طور پر شہریت کے خواہشمندوں کو اب شہریت کی درخواست دینے پر برہنہ فلم دکھائی جاسکتی ہے ۔ ہالینڈ میں پہلے مقامی زبان سیکھنا ضروری تھا تاہم اب شہریت کی درخواست دینے والے مسلمان کو عورت کا برہنہ جسم اور ہومو سیکس 

مردوں کو بوس و کنار کرتے ہوئے بھی دیکھنا پڑ سکتا ہے

ہالینڈ نے مسلمانوں کو اپنے مغربی معاشرے میں ضم کرنے کےلیئے مختلف پروجیکٹ شروع کیئے ہیں جن میں شہریت کی درخواست دینے والے کو ڈی وی ڈی پر ایسی فلم دکھائے جانے کا پروگرام ہے جس میں عورت برہنہ ہوگی یا اس کے نسوانی اعضا، برہنہ دکھائے جائینگے

شہریت کے حصول کی درخواست دینے والے کو ' ہومو سیکس '  مردوں کو آپس میں بوس وکنار کرتے ہوئے بھی دیکھنا پڑیگا

جرمنی کی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے ہالینڈ کے اس آئیڈیا کو ایک اچھا منصوبہ قرار دیا ہے

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو مغربی معاشرے سے روشناس کروانے کےلیئے ایسے منصوبوں پر عمل ہونا چاہیئے

اس سے قبل جرمنی کے ایک صوبے ' بادن ووٹن برگ ' نے جرمنی کی شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے تیس سوال مقرر کئیے تھے جس میں ایسے سوالات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان عام زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتا

جرمنی کے ایک اور سوبے ہیسن کی حکومت نے شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے جو سوالات بنائے ہیں ان کی تعداد ایک سو ہے

اس سے قبل فرانس نے مسلمان عورتوں کا سر پر سکارف لینا ممنوع قرار دے دیا تھا

ادھر جرمن حکومت کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی نے غیر ملکیوں کےلیئے سوالات والا سسٹم اور دیگر تمام ایسے منصوبوں کو قطعی غلط قرار دے دیا ہے

حکومت کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی جو سابق حمکران جماعت رہی ہے کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں خصوصا مسلمانوں کےلیئے ایسے سوالات ہتک آمیز ہیں

حکومت اور اتحادی جماعت ایس پی ڈی میں غیر ملکیوں کے بارے میں اختلافات سامنے آئے ہیں

حکمران جماعت کے ایک سیاسی رہمنا کا کہنا ہے کہ جرمنی سے پچیس فیصد مسلمانوں کو ان کے ممالک بھیج دیا جائے گا

تاہم ایک بات طے ہے کہ اب یورپ میں مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑے گا خصوصا شہریت کے حصول کےلیئے انہیں ایسے سوالات کا جواب دینا ہوگا جس کو مسلمان اپنے مذہبی حقوق کی پامالی سمجھتے ہیں

جرمنی کی  مسلم تنظیموں ایسے منصوبوں کے بارے میں عدالت سے رجوع کرنے کا کہا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات