|
مردوں کو بوس و
کنار کرتے ہوئے بھی دیکھنا پڑ
سکتا ہے
ہالینڈ نے مسلمانوں کو
اپنے مغربی معاشرے میں ضم کرنے کےلیئے مختلف پروجیکٹ شروع کیئے ہیں جن میں
شہریت کی درخواست دینے والے کو ڈی وی ڈی پر ایسی فلم دکھائے جانے کا
پروگرام ہے جس میں عورت برہنہ ہوگی یا اس کے نسوانی اعضا، برہنہ دکھائے
جائینگے
شہریت کے حصول کی درخواست
دینے والے کو ' ہومو سیکس ' مردوں کو آپس میں بوس وکنار کرتے ہوئے
بھی دیکھنا پڑیگا
جرمنی کی حکومت کے متعدد
رہنماؤں نے ہالینڈ کے اس آئیڈیا کو ایک اچھا منصوبہ قرار دیا ہے
ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ
مسلمانوں کو مغربی معاشرے سے روشناس کروانے کےلیئے ایسے منصوبوں پر عمل
ہونا چاہیئے
اس سے قبل جرمنی کے ایک
صوبے ' بادن ووٹن برگ ' نے جرمنی کی شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے
تیس سوال مقرر کئیے تھے جس میں ایسے سوالات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان
عام زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتا
جرمنی کے ایک اور سوبے
ہیسن کی حکومت نے شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے جو سوالات بنائے ہیں
ان کی تعداد ایک سو ہے
اس سے قبل فرانس نے
مسلمان عورتوں کا سر پر سکارف لینا ممنوع قرار دے دیا تھا
ادھر جرمن حکومت کی
اتحادی جماعت ایس پی ڈی نے غیر ملکیوں کےلیئے سوالات والا سسٹم اور دیگر
تمام ایسے منصوبوں کو قطعی غلط قرار دے دیا ہے
حکومت کی اتحادی جماعت
ایس پی ڈی جو سابق حمکران جماعت رہی ہے کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں خصوصا
مسلمانوں کےلیئے ایسے سوالات ہتک آمیز ہیں
حکومت اور اتحادی جماعت
ایس پی ڈی میں غیر ملکیوں کے بارے میں اختلافات سامنے آئے ہیں
حکمران جماعت کے ایک
سیاسی رہمنا کا کہنا ہے کہ جرمنی سے پچیس فیصد مسلمانوں کو ان کے ممالک
بھیج دیا جائے گا
تاہم ایک بات طے ہے کہ اب
یورپ میں مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑے گا خصوصا شہریت کے
حصول کےلیئے انہیں ایسے سوالات کا جواب دینا ہوگا جس کو مسلمان اپنے مذہبی
حقوق کی پامالی سمجھتے ہیں
جرمنی کی مسلم
تنظیموں ایسے منصوبوں کے بارے میں عدالت سے رجوع کرنے کا کہا ہے
|