Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 13 April 2006 16:08 (PST)اشاعت

ٹونی بلیئر کو نئے قانون پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے

 

لندن میں ہونے والے دھماکوں میں چھپن افراد ہلاک ہوگئے تھے

برطانیہ میں دہشتگردی اور اس سے متعلق مواد کی اشاعت کی روک تھام کیلئے نیا قانون نافذ کردیا گیا ہے لندن میں سرکاری ذرائع کے مطابق دہشتگردی ایکٹ 2006کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قسم کے مواد کی اشاعت پر پابندی عائد کرسکیں گے 

دارالعمراء میں حزب اختلاف کی طرف سے انسداد دہشتگردی کے اس متنازعہ قانون کی شدید مخالفت کی گئی ہے اور بعض وکلاءکی طرف سے اس نئے قانون کی حیثیت کے بارے پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے اس سے پہلے اس قانون کو پانچ مرتبہ مسترد کیا جا چکا ہے

کل سترہ ارکان نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیئے ہیں انسداد دہشتگردی کے بارے میں یہ قانون سے متعلق تجاویز گزشتہ سال لندن میں سات جولائی کے بم دھماکوں کے بعد وزیراعظم ٹونی بلیئر کے اقدامات کے پیکج کے طور پر پیش کی گئی تھیں

 

 اس قانون کا مقصد نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے حزب اختلاف کے ارکان نے اس نئے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام شہری متاثر ہونگے

 

اس سے پہلے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کہہ چکے ہیں کہ اس قانون کے ذریعے پولیس ان افراد کے خلاف فوری کارروائی کرسکے گی جو دہشتگردی کو ہوا دینے میں ملوث پائے جائینگے

 

اس قانون کے تحت دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے والے دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے اور اس بارے میں مواد کی اشاعت کرنے والوںکے خلاف کارروائی کی جاسکے گی

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات