|
دارالعمراء میں حزب اختلاف کی طرف سے انسداد دہشتگردی کے اس متنازعہ قانون
کی شدید مخالفت کی گئی ہے اور بعض وکلاءکی طرف سے اس نئے قانون کی حیثیت کے
بارے پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے اس سے پہلے اس قانون کو پانچ مرتبہ مسترد
کیا جا چکا ہے
کل سترہ ارکان نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیئے ہیں انسداد دہشتگردی کے بارے
میں یہ قانون سے متعلق تجاویز گزشتہ سال لندن میں سات جولائی کے بم دھماکوں
کے بعد وزیراعظم ٹونی بلیئر کے اقدامات کے پیکج کے طور پر پیش کی گئی تھیں
اس
قانون کا مقصد نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے حزب
اختلاف کے ارکان نے اس نئے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام
شہری متاثر ہونگے
اس سے پہلے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کہہ چکے ہیں کہ اس قانون کے ذریعے
پولیس ان افراد کے خلاف فوری کارروائی کرسکے گی جو دہشتگردی کو ہوا دینے
میں ملوث پائے جائینگے
اس قانون کے تحت دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے والے دہشتگردی کی منصوبہ بندی
کرنے اور اس بارے میں مواد کی اشاعت کرنے والوںکے خلاف کارروائی کی جاسکے
گی
|