Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 12 May 2006 20:17 (PST)اشاعت

تارکین وطن کی متوقع قانون پر سخت تنقید

اردو سروس ۔ جرمنی

موجودہ حکومت کو تارکین وطن ایک سخت گیر جماعت تصور کرتے ہیں

جرمنی میں سی ڈی یو(کرسچین ڈیمو یونین) کی حکومت کے آنے کے فوری بعد متعدد نئے قانون متعارف کئے گئے ہیں جن میں اکثر کا تعلق مسلم انتہا پسندی کی روم تھام ، دہشتگردی کی روک تھام اور تارکین وطن کےلیئے جرمن شہریت کے قانون سے ہے

جرمنی کے صوبے ’ بادن ووٹن بیرگ ‘ میں نئے قانون متعارف کروایا گیا ہے جس میں جرمنی کی شہریت حاصل کرنے والوں کےلیئے تیس سوالوں کے جواب لازم دینا ہونگے

ان سوالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کےلیئے بنایا گیا ہے

سوال نامے میں پوچھا گیا ہے ، ہومو سیکس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

ایک اور سوال اس طرح ہے کہ ’ گیارہ دسمبر کو امریکہ میں اور اٹھارہ سمتبر کو اسپین میں ہونے حملہ کرنے والوں کو آپ کیا سمجھتے ہیں ، دہشتگرد ؟ انتہا پسند ؟

ایک سوال ’ چار شادیوں ‘ کے متعلق ہے

ایک سوال اس طرح سے ہوگا کہ ، کیا آپ اپنی بیوی کو برابری کے حقوق دینگے؟

تارکین وطن کے علاوہ خود اپوزیشن اور جرمن عوام کے ایک حصے نے اس قانون پر سخت تنقید کی ہے

جرمنی کی موجودہ حکومت کو تارکین وطن ایک سخت مذہبی جماعت تصور کرتے ہیں  جبکہ سیاسی طور پر جرمن کی موجودہ حکومت کا رجحان امریکہ کی طرف ہت

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس