Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 29 September 2006 23:21 (PST)اشاعت

پیراگراف آٹھ کے مطابق نازی نشان بیچنا جرم ہے

 

انٹی نازی لوگو لگانا ، فروخت کرنا یا اسے تقسیم کرنا بھی جرم ہے

جرمنی میں نازی ہٹلر مخالف نشانات(لوگو) فروخت کرنے والے نوجوان کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

جرمنی کے شہر سٹڈ گارڈ کی ایک عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص نازی ’لوگو‘ کو

کھلے عام فروخت یا کھلے عام اس کی تشہیر نہیں کر سکتا چاہے وہ انٹی نازی لوگو ہی کیوں نہ ہو

جرمنی میں نیو نازی کے لوگو(نشانات) سخت منع ہیں اور پیرا گراف آٹھ  کے تحت ایسا کرنے والے پر مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے جس کی سزا تین سال تک ہو سکتی ہے

مذکورہ نوجوان نازیوں کے (لوگوز)نشانات پر انٹی نازی کے کراس لگا کر فروخت کرتا تھا

عدالت کا کہنا ہے کہ ایسے لوگو ممنوع ہیں اور انہیں کسی بھی حال میں کھلے عام فروخت نہیں کیا جا سکتا

مذکورہ نوجوان اس بات پر حیران ہے کہ اسے انٹی نازی لوگو  فروخت کرنے پر سزا کیوں دی جا رہی ہے

نوجوان کو تین ہزار چھ سو یورو جرمانے کا سامنا پے تاہم انہیں قید کی سزا نہیں سنائی گئی

دوسری جانب نوجوان کی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے

لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان نئی نسل کو نازی ازم سے بچانا چاہتا تھا لیکن اسے اس کی سزا دی جارہی ہے

عدالت میں کارروائی کے دوران ایک معمر شخص احتجاج کے طور پر عدالت سے باہر چلا گیا

مذکورہ نوجوان ٹی شرٹ پر’ نازی سٹار ‘ پر کراس کا نشان لگا کر اسے فروخت کرتا تھا جس سے لوگو ’ انٹی نازی ‘ طور پر نظر آتا تھ ، جبکہ نازی لوگو کو ’ کوڑے دان ‘ میں پھینکتے ہوئے دکھایا گیا، یا ایک جیکٹ پر نازی نشان کو ’ مُکے ‘ گھونسے سے ٹیڑھا ہوا دکھایا گیا ہے

عدالت کا کہنا ہے کہ نازی نشانات کو کھلے عام فروخت یا اس کی تشہیر نہیں کی جاسکتی

جرمنی کی اپوزیشن جماعت گرین کی رہنما ، فراؤ روت ۔ کا کہنا ہے کہ نازی ازم کے خاتمے کےلیئے کام کرنے والوں کو سزا دینا سمجھ سے بالا تر ہے

واضع رہے گرین کی رہنما خاتون ’ روت ‘ نے بھی ایسا ہی ایک (انٹی نازی) کراس والا نازی سٹار اپنی کوٹ پر لگایا تھا جس پر انہیں تنقید کا سامنا پڑا اور ان کے اس فعل کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا

تاہم اگر یہ مقدمہ بڑی عدالت میں جاتا ہے تو مستقبل میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہونگے چاہے اس کا فیصلہ جو بھی ہو

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات