|
ادھر اوآئی سی نے بھیتھیٹر کو نہ
چلانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اوآئی سی کے مبصر فیصل محمد کا کہنا
ہے کہ انہوں نے انجیلا میرکل سے تھیٹر پر بندش لگانے کا کہا تھا
تاہم جرمن حکومت کے کئی عہدیدار اور سیاسی رہنماؤں سمیت اپوزیشن کے
ایک حلقے نے بھی تھیٹر کی بند ش کو آزادی رائے اظہار کی بند ش قرار
دیا ہے
جبکہ تھیٹر کو چلائے جانے کی صورت
میں قطعی امکان تھا کہ کہ جرمنی سمیت دنیا کے مسلمان ممالک میں اس
پر تشدد ردعمل سامنے آتا جس کی وجہ سے تھیٹر کو بند کردیا گیا بدھ ستائیس ستمبر کو جرمنی کے شہر
برلن میں بلائی جانے والی پہلی اسلامی کانفرنس میں وزیر داخلہ نے
مسلم رہنماؤں کو تھیٹر دیکھنے کی دعوت دی ہے
جرمن وزیر داخلہ : وولف گانگ شوئبل : نے آج بدھ کو ایک اسلامی
کانفرنس بلائی تھی جس میں جرمنی کی مسلم تنظیموں
کے بیس کے قریب رہنماوں نے حصہ لیا ہے
مذکورہ کانفرنس کو جرمن وزیر داخلہ نے مسلمانوں کے ساتھ : ڈائیلاگ :
کا نام دیا ہے جس میں ایک نئے تنازعے ۔ تھیٹر idomeneo پر بات ہوئی
مذکورہ تھیتر میں ایسے مناظر شامل ہیں جن میں پیغمبر اسلام حضرت محمد
، عیسٰی اور بدھ مذہب کے رہنما بدھا کی گردنوں کو کاٹا گیا ہے جن سے
خون بہہ رہا ہے
مسلمانوں نے ان مناظر پرسن دوہزار چار میں احتجاج کیا تھا جبکہ
مذکورہ تھیٹر اب پھر دکھایا جانا تھا لیکن انتہا پسند مسلمانوں کی
طرف سے کسی ممکنہ حملے اور مظاہروں کے خوف سے تھیٹر کو چلانے سے روک
دیا گیا تھا
جرمن حکومت کی چانسلر اور دیگر رہنماوں نے تھیٹر پر از خود پابندی کو
نا پسند کیا ہے جبکہ چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ آرٹ اور
آزادی رائے اظہار کو دبایا نہیں جا سکتا
جرمن وزیر داخلہ وولف گانگ شوئبل نے مذکورہ کانفرنس اسی لیئے بلائی
تھی اس میں مسلمانوں سے بات چیت کی جا سکے
کانفرنس میں وزیر داخلہ نے مسلم رہنماؤں کو تھیٹر دیکھنے کی دعوت دی
تھیٹر کا بند ہونا خود جرمن حکومت نے بھی پسند نہیں کیا
اور اسے آزادی کا گلہ گھونٹنا قرار دیا ہے
تاہم تازہ ترین اطلاع کے مطابق تھیٹر کی انتطامیہ ایک بر پھیر کہاہے
کہ وہ تھیٹر نہیں چلائے گی
|