|
جبکہ اب مذکورہ تھیٹر کو ایک بار
پھر منعقد کیئے جانے کی تیاری ہورہی ہے
مذکورہ تھیٹر کے بارے میں کہا جارہا
ہے کہ فعل حال اسے اس لیئے نہیں چلایا جارہا کہ اس سے مسلمانوں میں
اشتعال پیدا ہوگا
جبکہ جرمنی کے وزیر داخلہ’ مسٹر
وولف گانگ شوئیبل ‘ بدھ کو ایک اسلامی کانفرنس کا
اہتمام کر رہے ہیں جہاں اس تھیٹر کے بارے گفتگو زیر بحث آئے گی
کہ مسلمان اس پر کیا کہتے ہیں
تاہم جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ آرٹ
اور تھیٹر آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں اور ان پر پابندی عائد نہیں کی
جا سکتی
تھیٹر کی بندش کو حکومتی حلقوں نے
پسند نہیں کیا جس سے امکان ہے کہ مذکورہ تھیٹر چلایا جائے گا
پیغمبر اسلام ، عیٰسی اور بدھا کی
انسانی شبیہ بنا کر ان کے گلے کاٹنے کا منظر ہے
جرمنی کی حکومت کے کئی رہنماؤں کا
کہنا تھا کہ آزادی رائے کا گللہ نہیں گھونٹا جا سکتا
حکومتی جماعت کے ایک رہنما ’ مسٹر
وولف بوسباخ‘ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو جرمنی میں رہتے ہوئے
آزادی رائے کے اظہار کے بارے میں جاننا ہوگا
وولف گانگ بوسباخ کا کہنا تھا کہ
آرٹ اور تھیٹر اور آزادی رائے کے بارے میں ایسا سنسر اور سر پر چھری
نہیں ہونی چاہیئے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس
سلسلے میں کیا جس میں کہا جا رہا ہے کہ تھیٹر میں پیغمبر اسلام حضرت
محمد ، عیسی اور بدھا کے گلے کاٹنے کے عمل پر مسلمانوں میں اشتعال
پیدا ہو ستا ہے اور مسلمانوں کی جانب سے مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزادی
رائے کا احترام کیا جانا چاہیئے اور آرٹ پر بیجا پابندی عائد نہیں کی
جاسکتی
بدھ کے روز برلن میں اسلامی کانفرنس
بلانے اور اس کی میزبانی کرنے والے وزیر داخلہ نے ایک جانب اسلامی
کانفرنس منعقد کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کا کہنا ہے کہ آزادی
اظہار رائے اور آرٹ پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی
تاہم ایک بات واضع ہے کہ جرمنی میں
رہنے والے مسلمانوں کا ایسے آرٹ ، تھیٹر اور آزادی رائے کے اظہار جس
میں اسلامی شعائر کو دکھایا ، بنایا اور اس پر تنقید کی جاتی ہے ایک
امتحان ہے
تھیٹر میں حضرت محمد اور عیسی کے
علاوہ بدھا کے گلے کاٹنے اور ان سے خون بہنے کے کردار پر جرمنی میں
مسلمان رہنماؤں میں بھی ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے
ایک حلقے کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو
تنقید برداشت کرنا چاہیئے جبکہ دوسرا طبقہ ایسی باتوں کو اسلام اور
مسلمانوں کیخلاف اشتعال بازی کا نام دے رہا ہے
|