|
اپوزیشن کے ارکان بھی شامل
ہیں جن کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا اطلاق ہونا چاہیئے لیکن اس قیمت
پر نہیں کہ اس میں مساجد ۔پبلشراور دوکانداروں کو بھی شامل کیا
جائے
برطانوی حکومت نے
500مسلمانوں کو برطانیہ سے
نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت نے ان افراد
کے نام ظاہر نہیں کیئے
ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ
وہ ان 8ممالک سے
بات کرینگے کہ برطانیہ سے بے دخل کیئے جانے والوں کے ساتھ برا سلوک
نہیں کیا جائے گا
برطانوی اپوزیشن کے کئی
ارکان کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے انسانی حقوق کے قانون دستخط کیئے
ہوئے ہیں اس لیئے ہمیں برطانوی عوام کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ
انسانی حقوق کا بھی خیال رکھنا ہوگا
ٹونی بلیئر نے اپنے اعلان
میں کہا تھا کہ اگر یورپی یونین کے انسانی حقوق کے قانون کو بھی
تبدیل کرنا پڑا تو وہ کرینگے
ٹونی بلیئر کے اسلامی
تنظیموں۔دوکانداروں۔ پبلشروں اور مساجدوں کے خطیبوں پر پابندیاں
اور ملک سے بے دخل کرنے کے اعلان پر ان مسلمانوں نے بھی تنقید کی
ہے جن کو حکومت کا ھامی تسور کیا جاتا ہے
ان مسلمانوں کا کہنا ہے کہ
اس طرح مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا ہو گی اور مسلمان یکجہتی کے
دھارے ست دور ہو جائینگے
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان
پابندیوں سے مسلمان یہ سمجھے گے کہ ان کے انسانی حقوق سلب کیئے جا
رہے ہیں
حزب التحریر نے ٹونی بلیئر
کے فیصلے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ حزب التحریر کا
کہنا ہے کہ وہ کئی سال پرانی ایک اعتدال پسند اور دہشت گردی کیخلاف
اسلامی سیاسی جماعت ہے اور وہ ٹونی بلیئر کے فیصلے کیخلاف عدالت سے
رجوع کریگی
|