|
چار لاکھ لوگوں نے اس
تقریب میں شرکت کی۔جرمنی کے شہر کولن میں پاپ کی آمد شہر کے سب سے پرانے
چرچ میں ہوئی جو سات سو سال پرانا ہے
پاپ بینیڈیکٹ کی سیکورٹی
کےلیئے سینکڑوں پولیس اہلکار اور دیگر ادارے تعینات تھے ماہرین کے مطابق
پاپ کو کسی قسم کی دہشت گردی کا خطرہ نہیں کیونکہ دہشت گرد مذہبی لوگوں کو
نشانہ نہیں بناتے بلکہ سیاسی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں
بینیڈیکٹ سولہ نے کولن کے
دریا میں ایک بڑی کشتی میں بیٹھ کر سفر کیا اور کنارے پر موجود اپنے
پیروکاروں کے استقبال کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا
اس موقع پرہر ملک کے
افراد نے اپنے ہاتھوں میں ان کے ممالک کے جھنڈے اٹھا رکھتے تھے جن میں
سعودی عرب سمیت کئی مسلمان ممالک کے جھنڈے بھی لہرا رہے تھے
پاپ بینیڈیکٹ سولہ نے جمہ
کےروز یہودیوں کی عبادت گاہ منعقد کی گئی تقریب میں شرکت کی جس میں یہودی
عبادت گاہ کے چیئر مین ابراہم لیرا اور دیگر مقررین نے خطاب کیا جس میں کہا
گیا کہ جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں پر مظالم کیئے اور لاکھ یہودیوں کو
ہلاک کیا گیا
یہودی عبادت گاہ کے چیئر
مین ابراہیم اور دیگر مقررین نے پاپ سے کہا کہ اب مستقبل میں آپ یہودیوں کے
ساتھ کسی قسم کی زیادتی کے آپ ذمہ دار ہونگے کیونکہ اب آپ پر یہ بوجھ آن
پڑا ہے
تقریب میں جرمن
سیاستدانوں اور وزرا، جن میں وزیر داخلہ بھی شامل تھے نے شرکت کی
پاپ بینیڈیکٹ نے اپنے
خطاب میں کہا کہ مجھے یہودیوں کی ہلاکتوں پر رنج ہے اور اسی شہر کولن میں
بھی کئی ہزار یہودیوں کو ہلاک کیا گیا تھا
پاپ نے یہودیوں کی طرف سے
منعقدہ تقریب میں زور دے کر کہا کہ ہر مذہب کو جینے کا حق ہے اور مسلمانوں
کو بھی ایسے ہی جینے اور امن سکون سے رہنے کا حق ہے جیسے دوسروں کو
ممکن ہے پاپ کی طرف سے
یہودی عبادت گاہ میں منعقدہ تقریب میں مسلمانوں کے بارے میں کہے گئے ایسے
الفاظ یہودیوں کو پسند نہ آئیں کیونکہ گذشتہ دنوں اسرائیل نے ویٹینکن سے اس
بات پر شدید احتجاج کیا تھا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں فلسطینیوں کو دہشت
گرد کیوں نہیں کہا
پاپ کے ترجمان نے اسرائیل
پر واضع کر دیا تھا کہ یہ پاپ کا کام نہیں کہ کس کو دہشت گرد اور کس کو
نہیں۔ جس پر اسرائیل اور روم ویٹیکن کے تعلقات میں سردمہری آئی تھی |