ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:19 PSTاشاعت

 

پاپ کی جرمنی آمد۔یہودیوں کا شکوہ

 
   

کولن شہر کے دریا پر تیرتی ایک بڑی کشتی میں ایک لڑکی پاپ سے دعائیں لے رہی ہے

روم کے بڑے پاپ بینیڈیکٹ16کی جرمنی آمد پر کئی ممالک سے لاکھوں لوگوں نے تقریب میں شرکت کی۔جرمنی کے شہر کولن میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا گیا جو نوجوانوں کےلیئے تھا جس میں پاپ نے بھی شرکت کی۔کئی ممالک سے کم وبیش

چار لاکھ لوگوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔جرمنی کے شہر کولن میں پاپ کی آمد شہر کے سب سے پرانے چرچ میں ہوئی جو سات سو سال پرانا ہے

پاپ بینیڈیکٹ کی سیکورٹی کےلیئے سینکڑوں پولیس اہلکار اور دیگر ادارے تعینات تھے ماہرین کے مطابق پاپ کو کسی قسم کی دہشت گردی کا خطرہ نہیں کیونکہ دہشت گرد مذہبی لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ سیاسی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں

بینیڈیکٹ سولہ نے کولن کے دریا میں ایک بڑی کشتی میں بیٹھ کر سفر کیا اور کنارے پر موجود اپنے پیروکاروں کے استقبال کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا

اس موقع پرہر ملک کے افراد نے اپنے ہاتھوں میں ان کے ممالک کے جھنڈے اٹھا رکھتے تھے جن میں سعودی عرب سمیت کئی مسلمان ممالک کے جھنڈے بھی لہرا رہے تھے

پاپ بینیڈیکٹ سولہ نے جمہ کےروز یہودیوں کی عبادت گاہ منعقد کی گئی تقریب میں شرکت کی جس میں یہودی عبادت گاہ کے چیئر مین ابراہم لیرا اور دیگر مقررین نے خطاب کیا جس میں کہا گیا کہ جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں پر مظالم کیئے اور لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا گیا

یہودی عبادت گاہ کے چیئر مین ابراہیم اور دیگر مقررین نے پاپ سے کہا کہ اب مستقبل میں آپ یہودیوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کے آپ ذمہ دار ہونگے کیونکہ اب آپ پر یہ بوجھ آن پڑا ہے

تقریب میں جرمن سیاستدانوں اور وزرا، جن میں وزیر داخلہ بھی شامل تھے نے شرکت کی

پاپ بینیڈیکٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے یہودیوں کی ہلاکتوں پر رنج ہے اور اسی شہر کولن میں بھی کئی ہزار یہودیوں کو ہلاک کیا گیا تھا

پاپ نے یہودیوں کی طرف سے منعقدہ تقریب میں زور دے کر کہا کہ ہر مذہب کو جینے کا حق ہے اور مسلمانوں کو بھی ایسے ہی جینے اور امن سکون سے رہنے کا حق ہے جیسے دوسروں کو

ممکن ہے پاپ کی طرف سے یہودی عبادت گاہ میں منعقدہ تقریب میں مسلمانوں کے بارے میں کہے گئے ایسے الفاظ یہودیوں کو پسند نہ آئیں کیونکہ گذشتہ دنوں اسرائیل نے ویٹینکن سے اس بات پر شدید احتجاج کیا تھا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں فلسطینیوں کو دہشت گرد کیوں نہیں کہا

پاپ کے ترجمان نے اسرائیل پر واضع کر دیا تھا کہ یہ پاپ کا کام نہیں کہ کس کو دہشت گرد اور کس کو نہیں۔ جس پر اسرائیل اور روم ویٹیکن کے تعلقات میں سردمہری آئی تھی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں