|
مذاکرات میں یورپی یونین نے ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی
پروگراموں سے نمٹنے کیلئے صدر بش کی حمایت کی تاہم عراق جنگ ، کیوبا
میں قائم گوانتاناموبے جیل اور امریکہ کی مخالفت میں اضافے کے
معاملات پر صدر بش کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے
بیان میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ مراعاتی پیکج کا جلد جواب
دے ورنہ اس کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کیاجائے گا
ادھر ایران کے صدر احمدی نژاد نے ریلی سے اپنے حالیہ خطاب میں کہا
تھا کہ ایران یورپی پیکج کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کا جواب بائیس
اگست تک دیا جائے گا
امریکی صدر بش کا ایرانی صدر کے بیان پر ردعمل میں کہنا ہے کہ ایران
تاخیری حربے اختیار کر رہا ہے وہ اسے چند ہفتوں میں عالمی طاقتوں کے
پیکج کا جواب دے
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور ایران کو مراعاتی
پیکج دینے والے دیگر یورپی ممالک کے سفارتکاروں نے ٹیلی فون پر
رابطوں کے دوران اس بات پراتفاق کیا ہے کہ ایران کو مراعاتی پیکج کا
جواب دینے کیلئے آئندہ ہفتے کی ڈیڈ لائن دی جائے کہ امریکہ اور دیگر
عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران انتیس جون کو گروپ آٹھ کے ماسکو میں
وزراءخارجہ کے اجلاس سے قبل اپنا جواب دے
رائس کا کہنا تھا کہ اور اگر ایران جواب نہ دے سکا تو توقع ہے کہ
اجلاس میں ایران کے ایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کی
منظوری دے سکتا ہے
ادھر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ امریکی صدر
بش کو ایٹمی پروگرام سے متعلق پیکج کے جواب کے لیے انتظار کرنا چاہیے
یہ بات انہوں نے روم میں پہنچنے پر ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی،
منوچہر متقی نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئر
سولانا نے مراعاتی پیکج پیش کیا تھا تو اس کی حتمی ڈیڈ لائن پر
معاہدہ نہیں ہوا تھا اس سے قبل
انہوں نے اطالوی ہم منصب ماسیموڈی ایلما سے ملاقات کی اطالوی وزیر
خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ایٹمی تنازعے پر یورپی ممالک کی
کوششوں کا حامی ہے
اٹلی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایرانی حکومت کی حوصلہ
افزائی کے گا انہوں نے کہا کہ مراعاتی پیکج پر تہران کے مثبت جواب سے
خطے کے استحکام اور سکیورٹی سے متعلق مذاکرات میں ایران کی شمولیت
ممکن ہوسکی گی
|