Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Saturday, 01 July 2006 09:14 (PST)اشاعت

ہرسی علی اسلام پر تنقید کی وجہ سے مشہور ہوئیں

 

ہرسی علی نے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کو اچھا اقدام قرار دیا تھا

صومالیہ سے ہالینڈ آ کر سیاسی پناہ حاصل کرنے والی ہرسی علی ہالینڈ کی پارلیمنٹ کی رکن اور ایک سیاستدان بن گئیں

تاہم ان کی شہریت اس وقت منسوخ کردی گئی جب ان کے بارے میں  یہ

معلوم ہوا کہ انہوں نے سن انیس سو بانوے میں ہالینڈ میں سیاسی پناہ لیتے وقت اپنے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا تھا

پچھلے دنوں ہرسی علی کی شہریت اور رکنیت پارلیمنٹ منسوخ ہونے پر ہرسی علی نے امریکہ جانے کا اعلان کیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ہالینڈ نے انہیں عزت اور احترام دیا تھا اور وہ اس کےلیئے ہالینڈ کی شکرگزار ہیں

تاہم چند روز قبل ہرسی علی کی ہالینڈ کی شہریت بحال کر دی گئی تھی

ہرسی علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے انیس سو بانوے میں اپنے بارے میں بتائی گئیں معلومات میں غلط بیانی نہیں کی تھی

ہالینڈ کی حکومت اس وقت انتشار کا شکار ہوگئی جب ہرسی علی کی شہریت کے بارے میں کچھ سیاستدانوں نے تنقید شروع کی اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا

ہرسی علی کی شہریت کا تنازعہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہالینڈ وزیر اعظم ’ جان پیٹر بال کینینڈے ‘ ’مستعفی ‘ ہوگئے ہیں جبکہ انہوں نے ہالینڈ میں نئے انتخابات کروانے کا بھی کہا ہے

ہرسی علی جو صومالین نژاد اور ہالینڈ کی شہریت رکھتی ہیں اسلام پر تبقید کی وجہ سے مشہور ہیں

ہالینڈ میں انہوں نے اسلام پر تنقید کی وجہ سے متعدد افراد کو اپنا مخالف بنا لیا ہے

ہرسی علی کی  حفاظت پر ہالینڈ حکومت کو لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں جبکہ ان کی حفاظت کےلیئے انہیں ایک مخصوص گاڑی اور باڈی گارڈز بھی مہیا کیئے گئے ہیں

ڈنمارک کے بعد جرمنی سمیت یورپ کے متعدد ممالک کے اخبارات و رسائل نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیئے تو ہرسی علی نے اس اقدام کو سراہا تھا

ہرسی علی اس سلسلے میں جرمنی آئی تھیں اور یہاں انہوں نے میڈیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انہیں حوصلہ دیا کہ انہوں نے اچھا کام کیا ہے اور انہیں انتہا پسند مسلمانوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات