|
گوانتانامو میں دو عرب اور یمن کے قیدیوں نے
خود کشی کی ہے جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خود کشیوں
کا اقدام در اصل ایک ’ حربہ ‘ ہے
جرمن حکومت اور اس کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی
کا کہنا ہے کہ گوانتانامو قیدی کیمپ بند ہونا چاہیئے
واضع رہے گوانتانامو میں اس سے قبل بھی کئی
قیدی خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں جبکہ متعدد قیدیوں نے کئی ہفتے بھوک
ہڑتال بھی کی تھی جنہیں نالیوں کے ذریعے خوراک دی جاتی رہی تھی
بش انتظامیہ گوانتانامو کے قیدیوں پر کسی
عدالت میں مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے رہی تھی
انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے امریکہ پر
انسانی حقوق کی پامالی کے الزمات بھی عائد کیئے ہیں
چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ کوندو لیزا
رائس نے ایک امریکی چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’
گوانتانامو میں خطرناک قیدی موجود ہیں اور ہم امریکی عوام سے پوچھیں
گے کہ انہیں رہا کر دیا جائے ؟ ‘۔
رائس کا کہنا تھا کہ اگر امریکی عوام نے ہاں
جواب دیا تو پھر ان کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے
گوانتانامو کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ
قیدیوں نے اپنے کپڑوں اور بستر کی چادروں کے پھندے بنا کر خود کشی کی
ہے
تاہم سعودی عرب اور یمن کے شہری ہونے کے ناطے
سعودی اور یمنی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا
|