|
اپنے ایک کالم میں کہا ہے کہ جرمن گورنمنٹ اگر
بیلا روس کے صدر پر جرمنی آنے پر پابندی عائد کر سکتی ہے تو جرمن
حکومت ایرانی صدر کے جرمنی میں آنے پر بھی پابندی عائد کر سکتی ہے
انہوں نے نیو نازی کی طرف سے ایرانی فٹ بال
ٹیم کی حمایت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ اکیس
جون کو ایرانی ٹیم اور انگولا کے درمیان ہونے والے فٹ بال میچ کے
موقع پر نیو نازیوں نے تہران کے ساتھ اپنی حمایت کے مظاہرے کا اعلان
کیا تھا
واضع رہے ایرانی صدر احمدی نژاد کے اسرائیل
مخالف بیانات کے بعد جرمنی میں نیو نازی گروپوں نے احمدی نژاد کی
تعریف کی ہے جو خود جرمن حکومت کےلیئے ایک فکر اندیش بات ہے
حکومتی جماعت سی ڈی یو ( کرسچن ڈیمو
کریٹک یونین ) کے ایک وزیر ولف گانگ بوسباخ نے کہا ہے کہ ’ اگر احمدی
نژاد کا جرمنی میں آنا یقینی ہے تو حکومت اس بات کا واضع طور پر
اعلان کرے کہ احمدی نژاد کو جرمنی میں خوش آمدید نہیں کہا جائیگا
وولف گانگ کا کہنا تھا کہ’ جو یہودیوں کے قتل
عام( ہولوکاسٹ) کا انکار کرے اور اسرائیل کو نقشے سے مٹانے کی باتیں
کرے ایسے شخص کو جرمنی میں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا
جرمنی میں یہودی سنٹرل کمیونٹی کے سابقہ وائس
پریذیڈنٹ فرید مین جو ایک صحافی بھی ہیں کا کہنا ہے کہ
ایرانی حکومت کے کسی عہدیدار کو جرمنی آنے کی اجازت نہیں دی جانے
چاہیئے
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’ سکینڈل ‘ ہوگا
واضع رہے ایرانی صدر احمدی نژاد کے اسرائیل
مخالف بیانات پر یورپی یونین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جبکہ
ستر کے قریب یورپی یونین کے وزرا، نے احمدی نژاد کے جرمنی میں آنے پر
پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے
|