|
ا اسرائیل کو زندہ رہنے کا حق ہے کے نعرے
درج تھے
دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں یہودیوں کا
یہ پہلا مظاہرہ تھا
آلٹ اویرا ہاوس کے باہر احتجاجی جلوس میں
مختلف افراد نے تقریریں بھی کیں
جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرامن ریلی
تھی ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں اور ریلی کے دوران کوئی ناخوشگوار
واقعہ پیش نہیں آیا
جبکہ جرمنی کے وزیر داخلہ وولف گانگ شوبے کا
کہنا ہے کہ وہ ایرانی صدر احمدی نژاد کے فٹبال ورلڈ کپ کے دوران دورہ
کو خوش آمدید کہیں گے
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی جنگ میں بچ
جانے والے آرنولسٹرگر نے کہا کہ جرمن حکومت اگر ایرانی صدر کے دورہ
کو خوش آمدید کہتی ہے تو اس سے جرمن یہودیوں کے جذبات مجروح ہونگے
ان کا کہنا تھا کہ اس سے
اشتعال بڑھے گا اور ان کی آمد پر جرمنی میں ورلڈ کپ کے دوران مظاہرے
بھی ہو سکتے ہیں
اس دوران فرینکفرٹ میں قومی جمہوری پارٹی نے
احتجاج کے لئے پولیس کو درخواست دی جسے پولیس نے مسترد کر دیا اور
کہا کہ ایران گروپ ڈی میں انگولا کے ساتھ اپنا آخری میچ ضرور کھیلے
گا اور مظاہرے نہیں ہونے دیں گے
|