|
غلط بیانی سے کام لیا تھا
انہوں نے استعفے کے سلسلے میں دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ میں
عیان بنت ہرسی خاندانی نام مگان‘ آج میں پارلیمان کی رکنیت سے
استعفیٰ دے رہی ہوں میں ہالینڈ بھی چھوڑ رہی ہوں کچھ غم اور کچھ
راحت کے احساس کے ساتھ میں اپنا سامان باندھوں گی اور چل دونگی
زندگی کا سفر جاری رکھنے میں مدد دینے کےلئے شکریہ
وین گوف کے قتل کے بعد ہرسی علی کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں
ملتی رہیں جس کے بعد وہ پولیس کے سخت پہرے میں زندگی گزار رہی
تھیں
ہالینڈ کی وزارت داخلہ نے ان کی شہرت غلط بیان کی بنا ختم کردی
ہے
انہوں نے اپنے استعفے کے بارے میں مزید کہا ہے کہ شہریت ختم کئے
جانے سے بل ہی مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ مجھے آنے جانے کی مکمل
آزادی حاصل نہیں اور میں رکن پارلیمان کی حیثیت سے اپنے فرائض
ٹھیک سے انجام نہیں دے پارہی تھی اب شہریت ختم کئے جانے کے بعد
میں قانونی چارہ جوئی میں الجھ جاتی اور ان مسائل پر توجہ دینے
کےلئے میرے پاس وقت نہیں بچتا جو مجھے عزیز ہیں‘لہٰذا میں نے
فیصلہ کیا کہ بہتر یہی ہوگا کہ پارلیمان اور عوام پر اپنے ذاتی
مسائل نہ تھوپوں
ہرسی علی پر مستعفی ہونے کےلئے دباو اس وقت بڑھا جب گزشتہ ہفتے
ایک ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ انہوں نے پناہ کےلئے اپنی
درخواست میں کئی باتیں جھوٹی لکھی تھیں
اس کے علاوہ انکے پڑوسیوں کی اس شکایت پر کہ علاقے میں ان کی
رہائش باقی لوگوں کے لئے خطرے کا سبب بن سکتی ہے
ایک عدالت نے انہیں گھڑ چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا تھا ڈچ اخبارات
کے مطابق اب وہ واشنگٹن میں کنزرویٹو نظریات کے لئے کام کرنے
والی ایک تھنک ٹینک کے لئے کام کرینگی
|