|
قیدیوں میں سے صرف دسپر جنگی جرائم کی فرد جرم
عائد کی گئی ہے
انسانی حقوق کی تنظیموں اور حراستی مرکزسے رہائی
پانے والوں کا دعویٰ ہے کہ حراستی مرکز میں قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کیا
جاتا ہے
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی گوانتاناموبے
بند کرنے کے حق میں ہیں مگر اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے حراستی مرکز کو
انتہائی ناقابل قبول قرار دیا ہے
یہ بات انہوں نے لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی
ٹیوٹ میں سکیورٹی کے امور پر منعقد کانفرنس میں خطاب میں کہی گوانتاناموبے
میں اس وقت چار سو نوے افراد حراست میں ہیں یہ حراستی کیمپ چار سال پہلے
قائم کیا گیا تھا
اٹارنی جنرل نے اس بارے میں کہا کہ غیر معینہ مدت کے
لئے دشمن جنگجووں کی حراست نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قانونی لہذا
گوانتاناموبے کا وجود ناقابل قبول ہے لارڈ گولڈ سمتھ نے گوانتاناموبے کے
بارے میں کہا کہ میری رائے ہے کہ اسے بند کردینا چاہیے
میری ذاتی رائے ہے کہ اسے بند کرنا اصولاً ایک
صحیح قدم ہوگا اوراس کو بند کرنا یوں بھی ٹھیک ہوگا کہ اس کا وجود اب بہت
سے لوگوں کے لیے ناانصافی کی ایک بڑی مثال بن چکا ہے
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایسی مثال کی امریکی
تاریخ میں کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ امریکی ہمیشہ آزادی اور انصاف کے
معاملات میں آگے رہا ہے
انہوں نے کہا کہ اجتماعی سلامتی کے پیش نظر کچھ حقوق
کو محدود کیا جاسکتا ہے لیکن منصفانہ مقدمہ کے حق کو کبھی چھینا نہیںچاہیے
گوانتاناموبے کے حراستی مرکزسے پچھلے سال نو برطانوی شہریوں کوبرطانیو
حکومت کی مداخلت کے بعد رہا کرکے واپس بھجوایا گیا تھا
لارڈ گولڈ سمتھ نے کہا کہ برطانیہ گوانتاناموبے میں
قائم فوجی ٹربیونلز کو منصفانہ نہیں مان سکتا کیونکہ یہ کسی مقدمے کے
منصفانہ قرار دیے جانے والے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے
|