|
کی ترسیل کے ذرائع ختم کرنے کے علاوہ ایران کو نئے طیاروں
کی فروخت کی پیشکش بھی شامل کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے
کہ وہ طیاروں کی فروخت سمیت مجوزہ پیکج پر عملدرآمد کرے
برطانیہ فرانس اورجرمنی نے اپنے تیار کردہ مراعاتی پیکج میں
توسیع کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی روکنے کی صورت میں ایران کو
ہلکے پانی کی ایٹمی ریکٹر دینے پربھی آمادگی ظاہر کی ہے اور
امریکہ سے کہا ہے کہ وہ مراعات کے مجوزہ پیکج میں طیاروں کی
فروخت بھی شامل کرے
ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے ارکان سے صلاح و
مشورے کے بعد کوئی فیصلہ کرے گا
واشنگٹن میں سفارتی ذرائع نے بھی اس مجوزہ پیکج میں توسیع کی
تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ملکوں نے ایران کی جانب سے یورینیم
کی افزودگی روکنے کے بدلے مجوزہ پیکج میں نئے طیارے فروخت کرنے
کی تجاویز کی پیش کش بھی کی ہے
برطانیہ فرانس اور جرمنی نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ان کی تجاویز
پرکھلے ذہن سے غور کرے یورپی ملکوں نے مسئلے پر علاقائی مذاکرات
کی تجویز بھی پیش کی ہے
یورپی تجاویز کامسودہ چین روس اور امریکہ کو پیش کردیا گیا ہے
برطانیہ فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے لئے تیار کیے گئے
مسودے میں سیاسی اورعلاقائی سالمیت کے لئے ایران کی مدد پر
آمادگی بھی ظاہر کی گئی ہے
ایران کی جانب سے مثبت جواب نہ آنے کی صورت میں مسودے میں پندرہ
مختلف پابندیوں کا ذکرکیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل
کے لئے فیصلے میں مدد گار ثابت ہونگی
دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنز نے
کہا ہے کہ امریکہ یورپی تجاویز پر غور کررہاہے
تاہم اس پر کوئی فیصلہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اورجرمن
حکام کے لندن میں اجلاس کے لئے ممکن ہو گا
|