|
نوجوان جو تارکین وطن شمار کیئے جاتے ہیں نے بیلجیم کے ایک نوجوان کو قتل
کردیا تھا
تاہم بعد ازاں یورپی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا
اس واقع کے بعد بیلجیم میں تارکین وطن کےلیئے صورتحال غیر یقینی تھی تاہم
گذشتہ ہفتے ایک واردات میں نامعلوم افراد نے ایک افریقن عورت اور اس کی بچی
کو ہلاک کردیا تھا
اسی طرح ایک اور واردات میں سکن ہیڈ نے ایک مراکشی نژاد محمد حسین کو بھی
قتل کردیا
تہرے قتل کی اس واردات میں ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوسکی
تاہم بیلجیم کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ نسلی منافرت کے واقعات سے سختی
سے نمٹے گی اور اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی
بیلجیم کے وزیر اعظم گوئی فیر ہوفسٹڈ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی
کرتے ہوئے انہیں انصاف کی فراہمی پو یقین دلایا ہے
تاہم ان واقعات کے بعد دونوں طبقات میں تشویش پائی جاتی ہے
|