Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 12 May 2006 20:17 (PST)اشاعت

مسلم ممالک کی امداد ، ازسرنو غور ہوگا، یورپ

 

جرمنی کی سیاسی جماعت ایف ڈی پی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مظاہروں والے ممالک کی امداد پر ازسرنو غور کیا جائے

جرمنی کے وزیر خارجہ سٹائن مائر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک میں مطاہرے ہوئے ہیں ان ممالک کی امداد پر ازسرنو غور کیا جائے گا۔ جرمنی کی تیسری بڑی جماعت ایف ڈی پی کے سربراہ’ گلڈو ویسٹر ویلے ‘ نے ان ممالک کی امداد بند کرنے

پر غورکرنے کا کہا ہے جن ممالک میں مطاہرے کیئے گئے ہیں

یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹون کی اشاعت اچھا اقدام نہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بھر میں اس پر مظاہرے کیئے جائیں

یورپی یونین کے علاوہ یورپی ممالک بھی انفرادی طور پر مسلمان ممالک کو مالی امداد دیتے ہیں جسے اب بند کیا جا سکتا ہے

جرمنی کی چانسلر انجلا میرکل نے میونچن میں ہونے والی انٹرنیشن ڈیفنس کانفرنس میں مسلم ممالک میں جاری مظاہروں کو نا قابل قبول قرار دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے مذہب کی عزت کی جانے چاہیے

ایران کی طرف سے ڈنمارک کے ساتھ تمام تجارتی معاہدے منسوخ کر دیئے گئے ہیں جبکہ ایران، سعودی عرب، قطر نے اپنے سفیر ڈنمارک سے واپس بلائے لیئے ہیں

ادھر عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری نے مسلم ممالک میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں کہا ہے کہ مسلمانوں تحمل کا مطاہرہ کرنا چاہیئے

ناروے کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دمشق میں ناروے کے سفارتخانے کو نذر آتش کیئے جانے کے معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھائیا جائے گا

جبکہ شام سے نقصان کا ازلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

یورپی یونین یا یورپی ممالک کی طرف سے اسلامی ملکوں کی مالی امداد بند کیئے جانے کی دھمکی کے بعد ممکن ہے مسلم حکومتیں احتجاج کو بزور طاقت روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس