|
جس پر دنیا بھر کے اسلامی
ممالک میں شدید ردعمل ہوا اور کارٹونوں کی اشاعت کیخلاف مظاہروں اور
ہنگاموں میں اب تک ایک سو پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوگئے
ایوارڈ دینے والی جیوری کا
کہنا ہے کہ اخبار نے جس جرآت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے ثابت کر دیا کہ آزادی
رائے کتنا مشکل کام ہے
اخبار ’ جیلانڈ پوسٹن‘ کے
ایڈیٹر کرسٹین جیسٹے نے ایوارڈ کی وصولی کے بعد کہا کہ ان خاکوں کی
اشاعت پر ہونے والے ردعمل نے ثابت کردیا ہے کہ آزادی صحافت کتنا مشکل کام
ہے
واضع رہے پاکستانی اخبارات
اور میڈیا میں ایوارڈ وصول کرنے ایڈیٹر’ کرسٹین جیسٹے‘ کے لکھے ہوئے ایک
آرٹیکل کو معافی نامہ بنا کر شائع کیا گیا تھا تاہم ایوارڈ کی وصولی سے
ثابت ہوتا ہے کہ ایڈیٹر کا مقصد معافی مانگنا نہیں تھا
ڈنمارک کے مسلمانوں نے
اخبار کو ایوارڈ دیئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
اخبار کو کارٹونوں کی اشاعت اور اس کے بعد سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کے بعد
ایوارڈ دیا جانا ثابت کرتا ہے کہ ڈنمارک کے مسلمانوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے
تمام دعوے غلط ہیں
یورپ میں چند اشاعتی اداروں
نے بھی ایوارڈ دیئے جانے پر کہا ہے کہ اس کا کوائی جواز نہیں ہے
|