|
کی تعمیر کو بزور روکنے کی دھمکی دی
برلن کے شمالی علاقے میں جماعت احمدیہ اپنی عبادت
گاہ بنانا چاہتے ہیں جس کےلیئے انہوں نے ایک ملین یورو کا تخمینہ لگایا ہے
جس مقام پر یہ عبادت گاہ بنائی جائے گی وہ برلن کی بڑی
شاہراہ کے قریب اور شہر میں داخلے کے شروع میں پڑتی ہے
ایک احتجاجی کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی سیاح ہمارے شہر
میں داخل ہوگا تو سب سے پہلے اس کی نظر اس مسجد پر پڑے گی ، تو کیا یہ
ہمارے لےیئے کوئی مناسب بات ہوگی
احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ ' مسلمانوں کی مسجد بننے سے
علاقے میں فساد ہوگا اور علاقہ غیر محفوظ ہو جائیگا
علاقے کے چیئرمین نے لوگوں کو ایک ھال میں مدعو کیا تھا
تاکہ انہیں بتایا جا سکے کہ ان کے نزدیک ایک عبادت گاہ تعمیر کی جا رہی ہے
تاہم چیئرمین کی دعوت پر آنے والے ڈیڑھ ہزار افراد نے شدید ہنگامہ کردیا
اور نامنظور نامنظور ، مسجد نا منظور کے نعرے لگائے
علاقے کے چیئر مین کا کہنا ہے کہ شہر کے کنارے میں بنی
ہوئی ایک مسجد بہت بھلی لگے گی اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اس علاقے میں مسجد بنانے
کی قطعی اجازت نہیں دینگے جبکہ کچھ نامعلوم افراد نے متعلقہ دفاتر میں
ٹیلیفون پر دھمکیاں دی ہیں
علاقے کے احمدیوں کا کہنا ہے کہ وہ پر امن لوگ ہیں اور
کبھی کسی ہنگامے میں حصہ نہیں لیتے جبکہ میڈیا کا کہنا ہے کہ جرمنی میں
مقیم احمدیوں کو پاکستان میں سنگین مسائل کا سامنا اور ان کی زندگیوں کو
خطرہ ہے
تاہم شمالی برلن کے علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ
یہاں احمدیوں کی مسجد تعمیر نہیں ہو سکتی
|