|
سوزانے اوسٹ ہوف جنہوں نے
اسلام قبول کرلیا تھا عراق میں آثار قدیمہ کی ماہر کے طور کام کر رہی تھیں
سوزانے اوسٹ ہوف کئی
برسوں سے عراقی ثقافت پر بال ، موصل اور دیگر مقامات پر کام کر رہی تھیں
انہیں کم و بیش چار ہفتے قبل موصل جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا
اغوا کاروں کا کہنا تھا
کہ جرمن حکومت عراقی حکومت سے تمام تعلقات منقطع کرے
سوزانے اوسٹ ہوف کی رہائی
کےلیئے سوزانے کی والدہ۔ ان کی بہن سابقہ جرمن چانسلر گیرہارڈ شروئیڈر
موجودہ حکومت کی چانسلر انگیلا میرکل اور جرمن میں مقین لاکھوں مسلمانوں نے
اغوا کاروں سے اپیل کی تھی کہ وہ سوزانے کو رہا کر دیں
تاہم وزیر خارجہ سٹائن
مائیر نے یہ نہیں بتایا کہ جرمن حکومت نے اغوا کاروں کے کون کونسے مطالبات
کو تسلیم کیا ہے یا سوزانے کی رہائی کےلیئے رقم ادا کی ہے
سوزانے اوسٹ ہوف اس وقت
بغداد میں جرمن ایمبیسی میں موجود ہیں اور خریت سے ہیں
تازہ ترین اطلاع کے مطابق
سوزانے کے ڈرائیور کو بھی رہا کردیا گیا ہے تاہم اس سے پہلے ملنے والی
اطلاع میں کہا گیا تھا کہ سوزانے کے عراقی ڈرائیور کو رہا نہیں کیا گیا |