Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 13 November 2006 17:35 (PST)اشاعت

عراق دلدل امریکہ و برطانیہ کےلیئے مزید گہری ہوگئی

 

صدر بش اور ٹونی بلیئر عراق میں ہار کے قریب، مبصرین

کیا صدر بش کی پالیسی اس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ بش انتظامیہ نے ایران اور شام کے ساتھ بات چیت کرنے کا عندیہ دیا ہے

ڈیمو کریٹیک کا کہنا ہے کہ وہ صدر بش کو مجبور کرینگے کہ وہ عراق سے فوجیں جلد از

جلد نکال لیں

گذشتہ دنوں کونڈو لیزارائس نے ایران کے ساتھ مشروط بات چیت کی حامی بھری تھی تاہم اسی کے ساتھ امریکی انتظامیہ نے اس خیال کر رد کردیا تھا کہ امریکہ ایران سے کسی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کریگا

رائس کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کردے تو اس کے ساتھ باتچیت ہوسکتی ہے

تاہم اب عراق کی دلدل امریکہ اور برطانیہ کےلیئے اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ ایک جانب صدر بش نے کہا ہے کہ وہ عراق پر پالیسی تبدیل کرسکتے ہیں تو دوسری جانب ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق کے حوالے سے ایران اور شام کے ساتھ بات چیت کی جائے

دونوں ان رہنماؤں جنہوں نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور لاکھوں افراد ہلاک ہوئے کے یہ بیانات ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ عراق دلدل کی اس تہہ تک پہنچ چکے ہیں جہاں ہاتھ پاؤں مارنا مزید گہرائی میں دھکیلتا ہے

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں امن و صلح برقرار کرنےکے لیے ایران اور شام سے مدد حاصل کرنی چاہیے

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ان نتائج سے آگاہ کیا جانا چاہیے جو خطے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تعاون کرنے یا نہ کرنے کے نتیجے میں پیش آ سکتے ہیں

ان کی یہ درخواست ان خبروں کے بعد آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ عراق کے مسقبل پر ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بش عراق کے بارے میں اس پینل کی تمام تجاویز پر غور کریں گے جسے عراق مطالعاتی گروپ کا نام دیا جا رہا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات