|
جلد نکال
لیں
گذشتہ دنوں
کونڈو لیزارائس نے ایران کے ساتھ مشروط بات چیت کی حامی بھری تھی
تاہم اسی کے ساتھ امریکی انتظامیہ نے اس خیال کر رد کردیا تھا کہ
امریکہ ایران سے کسی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کریگا
رائس کا
کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کردے تو اس کے ساتھ
باتچیت ہوسکتی ہے
تاہم اب
عراق کی دلدل امریکہ اور برطانیہ کےلیئے اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ ایک
جانب صدر بش نے کہا ہے کہ وہ عراق پر پالیسی تبدیل کرسکتے ہیں تو
دوسری جانب ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق کے حوالے سے ایران اور شام
کے ساتھ بات چیت کی جائے
دونوں ان
رہنماؤں جنہوں نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور لاکھوں افراد ہلاک
ہوئے کے یہ بیانات ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ عراق دلدل کی
اس تہہ تک پہنچ چکے ہیں جہاں ہاتھ پاؤں مارنا مزید گہرائی میں
دھکیلتا ہے
واشنگٹن
ٹائمز کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ
مشرق وسطی میں امن
و صلح برقرار کرنےکے
لیے ایران اور شام سے
مدد حاصل کرنی چاہیے
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ان نتائج سے
آگاہ
کیا جانا چاہیے جو خطے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تعاون
کرنے یا
نہ کرنے کے نتیجے میں پیش آ سکتے ہیں
ان کی یہ
درخواست
ان خبروں کے بعد آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات پر غور
کر رہا ہے کہ عراق کے مسقبل پر ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے
اطلاعات
کے مطابق امریکی
صدر بش عراق کے بارے میں اس پینل کی تمام تجاویز پر غور کریں گے جسے
عراق
مطالعاتی
گروپ کا نام دیا جا رہا ہے
|