|
رہے ہیں کہ
ایسےامریکی جہاز
جرمنی میں کب اور کہاں سے آئے اور کہاں گئے
امریکی میڈیا
نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے مشرقی یورپ سمیت کئی ممالک میں ایسے
خفیہ مقامات بنائے ہوئے ہیں جہاں ایسے قیدیوں کو رکھا گیا جن کے
بارے میں کسی کو معلوم نہیں
انسانی حقوق
کی بڑی تنظیم ََ ہیومن رائٹس واچ ََ اس بارے میں کئی
برسوں سے یہ کہتی آئی ہے کہ امریکہ نے کئی ممالک میں ایسے خفیہ اڈے
بنائے ہوئے ہیں جہاں دہشتگردی کے نام پر گرفتار کیئے گئے لوگوں کو
رکھا جاتا ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے
ہیومن رائٹس
واچ نے اس سلسلے میں مصر کا نام بھی لیا تھا،
انسانی حقوق
کی اس سب سے بڑی تنظیم کا کہنا تھا کہ امریکہ نے کئی قیدی مصر کو
دیئے تاکہ وہ ان سے تفتیش کرے
مصر کے بارے
میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے خفیہ ادارے حکومت مخالف افراد کو
گرفتار کے کے تفتیش کرتے ہیں جو انسانی حقوق کے سراسر منافی ہوتی
ہے
امریکہ پر اس
وقت یورپی ممالک سمیت عالمی برادری کا دباؤ بڑھ رہا جس میں کہا جا
رہا ہے کہ امریکہ ان مقامات کی نشاندہی کرے جہاں ایسے افراد کو
رکھا گیا ہے
جرمنی میں
امریکہ کے کئی ہزار فوجی اب تک موجود ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد
ایک معاہدے کے تحت یہاں مقیم ہوئے
جرمنی میں
امریکہ کی ایسی فلائٹس جن میں دہشتگردی کے نام پر گرفتار کیئے گئے
افراد کو لایا اور لے جایا گیا تھا جرمنی کے انٹرنیشنل ائرپورٹ
فرینکفرٹ اور رمسٹائن کے ائرپورٹوں پر آئے اور وہاں سے مشرقی یورپ
کےممالک کےلیئے پروازیں کیں
ایسے ممالک
کے بارے میں کہا جا رہا ہے ممکن ہے ان میں پولینڈ ۔ رومانیہ ۔
جارجیا ۔ لٹ لینڈ اور آرمینا میں امریکہ کے وہ خفیہ مقام ہوں
جہاں قیدیوں کو لیجایا گیا ہے
رومانیہ کی
حکومت کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کوئی ہمارے
ملک میں اس بارے میں تفتیش کرنا چاہتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں
ایسی کوئی خفیہ جگہ نہیں جہاں قیدیوں کو رکھا گیا ہو
جرمنی کے
انتڑنیشنل ائرپورٹ ََ فرینکفرٹ ََ سن دو ہزار دو سے سن دوہزار چار
تک ایسی کم از کم اسی فلائٹس آئی اور گئیں جن کے بارے میں کہا جا
رہا ہے کہ یہ فلائٹس دہشتگردی کے نام پر گرفتار کیئے جانے والے
قیدیوں کو لانے اور لیجانے کےلیئے استعمال کی گئیں
اس انکوائری
میں پرتگال کا نام بھی لیا جا رہا ہے ،
پرتگال بھی
اس سلسلے میں انکوائری کر رہا ہے کہ سی آئی اے کے زیر نگرانی ایسی
کتنی فلائٹس ان کے ملک میں آئی یا یہاں سے گئیں یا پھر انہوں نے
پرتگال کا فضائی راستہ استعمال کیا
جرمنی کے
اخبار ََ برلینر سائٹنگ ََ کا کہنا ہے کہ دو برسوں میں ایسی فلائٹس
کی تعداد پچاسی ہے |