|
شامل ہونے پر دوبارہ نظر
ثانی کی جا سکتی ہے
ان دنوں یورپی یونین
کی پارلیمنٹ اور یورپی یونین کے کئی ممالک اس بات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں
کہ امریکی سی آئی اے کی زیر نگرانی ان قیدیوں کو یورپ کے کن کن ممالک میں
لایا گیا اور امریکی جہاز ایسے قیدیوں کو کہاں سے لائے اور کہاں لے کر گئے
تھے
یورپی یونین اور یورپی
ممالک کے کئی رکن ملک اس بات کی بھی جانچ پڑتال کر رہے ہین کہ امریکی سی
آئی اے نے ان قیدیوں کو اپنے خفیہ ٹھکانوں پر پہنچانے کےلیئے یورپ کے کن
ممالک کے ہوائی اڈے استعمال کیئے
امریکی سی آئی اے کے
ساتھ ایسے رابچوں اور سہولتں دیئے جانے کے بارے میں اب رومانیہ اور پولینڈ
کے نام سامنے آئے ہیں
جمعہ کو ’’ میرکش
الگیمائن ‘‘ نے اپنی اطلاعات میں کہا ہے کہ امریکی جہازوں کی آمد رفت کی
لسٹوں کے تبادلے سے معلوم ہوا ہے کہ اب تک ایسے جہازوں کی تعداد بہت زیادہ
ہے جن کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا اور یہ جہاز کابل سے رومانیہ اور پولینڈ کے
راستے کیوبا میں امریکی کیمپ ’’ گوئتاناموبے ‘‘ کی طرف گئے
’’ برلینر سائیٹنگ ‘‘
کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے ایسے خفیہ جہازوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے
جن کے بارے میں اب تک معلوم ہو سکا ہے
اس برس کے دوران ایسے
خفیہ جہازوں کی تعداد کم از کم پندرہ تھی جو سول تھے جنہوں نے یورپی ممالک
میں لینڈنگ کی
واضع رہے امریکی خفیہ
ایجنسی سی آئی اے پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے دہشتگردی کے نام پر
بہت سے لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے خفیہ بنائے ہوئے ٹھکانوں پر پہنچائے
جہاں ان سے انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کسی کو ان کے بارے میں نہیں بتایا
گیا |