|
نشر کیا
سوزانے کی والدہ انگرڈ
ھالہ نے اغواکاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہ ََ میں آپ سے اپنی بیٹی کی رہائی
کی اپیل کرتی ہوں ، آپ اسے رہا کردیں
انگرڈ ھالہ نے
اغواکاروں سے کہا کہ ََ سوزانے عراق میں آثار قدیمہ پر تحقیقات کر رہی تھی
جو بھلائی کا کام تھا
سوزانے اوسٹ ہوف جن کو
گذشتہ جمعہ کو عراق میں نامعلوم اغواکاروں نے انہیں موصل جاتے ہوئے اغوا
کیا تھا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ایک مقامی عراقی سے شادی کر لی تھی
سوزانے اوسٹ ہوف کی
ایک بیٹی بھی ہے
سوزانے کی والدہ جب
اپنی بیٹی کی رہائی کےلیئے اپیل کر رہی تھیں تو انہوں نے مختصر بیان دیا
تاہم دکھ سے ان کی آواز رندھ گئی تھی
سوزانے کی بہن ََ
آنیا ََ جو اپیل کرتے وقت اپنی والدہ کے پاس بیٹھی تھیں نے کہا
کہ سوزانے عراقی عوام کےلیئے عراق میں کام کر رہی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ
میری بہن نے عراقیوں کےلیئے کام کیا اور عراقی ثقافت پر تحقیقات کر رہی
تھیں جب انہیں اغوا کیا گیا
جرمن چانسلر انگیلا
میرکل جن کی حکومت کے ایک ہفتے بعد یہ مسئلہ پیدا ہو گیا نے کہا ہے کہ وہ
ہر ممکن طور پر سوزانے اور ان کے ڈروائیور کو رہا کروائینگی
عراق میں اغوا کاروں
نے سوزانے کو ان کے ڈروائیور سمیت اغوا کیا ہے
جرمن کے ماہرین کا
کہنا ہے کہ عراق میں دہشتگرد اس وقت سخت دباؤ میں ہیں اس لیئے ممکن ہے
سوزانے کی جان کو خطرہ پیش آ جائے تاہم یہ خیال بھی کیا جا رہا ہے کہ جرمن
حکومت اغواکاروں کو تاوان ادا کر کے سوزانے کو رہا کر والے
عراق میں اٹلی اور
فرانس کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کی رہائی کےلیئے کئی ملین ڈالر تاوان ادا
کیا تھا تاہم دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس کی تردید کی تھی |