|
پابندیوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ
دوسری جانب اسکارف بجائے خود ایک ایسی چیز ہے جس کے استعمال سے مسلم
عورت معاشرے سے خود کو علیحدہ ظاہر کرتی ہے
تاہم اب جرمن سیاستدانوں کے علاوہ
جرمنی میں خود مسلم سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ مسلم عورت کو اسکارف
اتار دیان چاہیئے
جرمنی کی گرین پارٹی کے سیاستدان ’’
ایکی ڈیلیگوز ‘‘ نے مسلم عورتوں کو کہا ہے کہ وہ حجاب اتار دیں
انہوں نے ایک اخبار سے بات چیت کرتے
ہوئے کہا کہ ’’ مسلم عورتیں یہاں ہیں ، مسلم عورتیں جرمنی میں رہتی
ہیں ، مسلم عورتوں حجاب اتار دو ‘‘
اس سے قبل جرمنی ایک صوبے میں حجاب
پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی جس کے تحت کوئی مسلم خاتون حجاب کے
ساتھ کسی سکول میں نہیں پڑھا سکتیں
متعدد مسلم تنظیموں نے ایسے قانون
پر احتجاج کیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ فرانس کے بعد جرمنی ، ہالینڈ
، بیلجیم اور برطانیہ بھی اب مسلم عورتوں کے حجاب سے خفا ہیں اور اس
کو معاشرے سے علیحدگی کا ایک ’’ سمبول ‘‘ سمجھتے ہیں
رواں ہفتے برطانیہ جس کے بارے کہا
جاتا ہے کہ وہ یورپ میں سب سے زیادہ کھلے دل کا ملک ہے کے سابق وزیر
خارجہ جیک اسٹرا نے اپنے ایک کالم میں مسلم عورتوں کو مشورہ دیا کہ
وہ حجاب اتار دیں جبکہ انہوں نے حجاب کے بارے میں کہا کہ اس طرح مسلم
عورتیں خود کو معاشرے سے علیحدہ ظاہر کرتی ہیں
جیک اسٹرا عراق جنگ کی حمایت
میں بھی پیش پیش تھے جبکہ وہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بھی سخت
حمایتی تھے
جیک اسٹرا کے کالم سے برطانیہ میں
ایک سخت بحث چھڑ گئی ہے
|