Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 15 October 2006 11:35 (PST)اشاعت

اسکارف عورت پر پابندیوں کو ظاہر کرتا ہے، سیاستدان

 

فرانس میں حجاب کیخلاف احتجاج کے طور پر ایک مسلم لڑکی نے اپنے سر کے بال کٹوا دیئے

جرمنی میں اس سے قبل  کئی جرمن سیاست دانوں کا کہنا تھا کہ مسلم عورتوں کو اپنے سروں سے حجاب اتار دینا چاہیئے

اس سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ مسلم عورت کے سر پر حجاب ایک جانب عورتوں پر

پابندیوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری جانب اسکارف بجائے خود ایک ایسی چیز ہے جس کے استعمال سے مسلم عورت معاشرے سے خود کو علیحدہ ظاہر کرتی ہے

تاہم اب جرمن سیاستدانوں کے علاوہ جرمنی میں خود مسلم سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ مسلم عورت کو اسکارف اتار دیان چاہیئے

جرمنی کی گرین پارٹی کے سیاستدان ’’ ایکی ڈیلیگوز ‘‘ نے مسلم عورتوں کو کہا ہے کہ وہ حجاب اتار دیں

انہوں نے ایک اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مسلم عورتیں یہاں ہیں ، مسلم عورتیں جرمنی میں رہتی ہیں ، مسلم عورتوں حجاب اتار دو ‘‘

اس سے قبل جرمنی ایک صوبے میں حجاب پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی جس کے تحت کوئی مسلم خاتون حجاب کے ساتھ کسی سکول میں نہیں پڑھا سکتیں

متعدد مسلم تنظیموں نے ایسے قانون پر احتجاج کیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ فرانس کے بعد جرمنی ، ہالینڈ ، بیلجیم اور برطانیہ بھی اب مسلم عورتوں کے حجاب سے خفا ہیں اور اس کو معاشرے سے علیحدگی کا ایک ’’ سمبول ‘‘ سمجھتے ہیں

رواں ہفتے برطانیہ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ یورپ میں سب سے زیادہ کھلے دل کا ملک ہے کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے اپنے ایک کالم میں مسلم عورتوں کو مشورہ دیا کہ وہ حجاب اتار دیں جبکہ انہوں نے حجاب کے بارے میں کہا کہ اس طرح مسلم عورتیں خود کو معاشرے سے علیحدہ ظاہر کرتی ہیں

جیک اسٹرا عراق جنگ  کی حمایت میں بھی پیش پیش تھے جبکہ وہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بھی سخت حمایتی تھے

جیک اسٹرا کے کالم سے برطانیہ میں ایک سخت بحث چھڑ گئی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات