|
ان خیا لات کا اظہار جرمنی کی سب سے
بڑی ٹریڈ یونین ڈی،جی بی کے چرمین زومرنے 10000سے زائد مزدوروں کے
ایک اجتماح سے خطاب کرتے ہوے کہا اور مزید کہا کے حکومت رئٹائرڈمنت
کی عمر 63سال سے بڑا کر 67 سال کرنا چاہتی ہے،اور اس میں حیرانگی کی
کوئی بات نہیں کے جرمنی کی بے روز گاری آج 14 فیصد سے زائدہ ہے جو
مزید بڑھ گی۔ہم اسکو نا منظور کرتے ہیں
صحت کی اصلاحات سے آج عام مزدوروں کو ڈاکٹر کی فیس اور مہنگی ادویات خریدنی
پڑتی ہیں
ہارسٹ 4 سے عوام کا معیارزندگی بری طرح سے گر گیا ہے۔اور جس سے جرمنی میں
غربت بڑھ رہی ہے۔ اور یہ حالات ناقابل برداشت اور ہمیں نہ قابل قبول
ہیں
20 اکتوبر کو جرمنی کے 5 بڑے شہروں میں زبر دست اور کامیاب مظاہرے ہوے جس کے
ہر مظاہرے میں 10،000 سے مزدوروں نے بھرپور شرکت کی
یورپ کے سنہرے نقاب آج اتر کر اندر سے سرمایہ داری کے بہیانک چہرے واضح ہو
رہے ہیں۔
یورپی سوشل ویلفر ریاستوں کا تصور آج ناپید ہو رہا ہے
ریاستی کٹوتیوں سے آج ہر چیز عوام کی قوت خرید سے باہر ہو رہی
ہے۔تعلیم،صحت،آج مفت نیہں رہیں۔بے روزگاری الاوئنس تقریبا ختم کر کے
مشکل سے زندہ رہنے کے لیے سوشل ہلپ کے برابر کر دیا گیا ہے۔ ون یورو
جوب میں عزت نفس کو مجرو کیا جا رہا ہے۔اور ہر اعلی تعلیم یافتہ اور
ہنر مندوں کو بھی نہایت گھٹیا اور ان پڑھ جہاہلوں والی صفائی اور
دوسری ایسی ہی ملازمتوں پر جبری بھجا جارہا ہے۔یہاں نہ جانے پر انکے
پیسے بند کر دیتے ہیں
آنئدہ سال سے سیل ٹیکس 16 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کر دیا گیا ہے تمام بے
روزگاروں سے نہایت ناروا سلوک برتا جاتا ہے
جرمنی میں آج جہاں بے روزگاری بہت زیادہ ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔تو دوسری طرف
رٰیٹائرمینٹ کی عمر کم کرنے کی بجائے 4 سال زیادہ کی جا رہی ہے۔آج ہر
مزدور کو جبری اوورٹائم کرنا پڑتا ہے ،نہ کرنے پر یہ برطرف کیا جا
سکتا ہے۔ ہر جگہ ٹھیکے داری سسٹم بڑھ رہا ہے۔جس سے مزدوروں کا تحفوظ
ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ بڑی بڑی اجاداریاں اور فرمیں دھڑا دھڑا منافعے
کما رہی ہین۔پچھلے سال ڈوچ ٹیلی کوم نے ریکارڈ منافع کمایا جبکے اسی
نے 14000 سے زیادہ مزدور برطرف کیے
ان ناگفتہ اور طبقاتی حالات کے خلاف یہ مزدوروں کے مظاہرے ہوئے تھے
جن میں اس چیز کا اعادہ کیا گیا ہے کے مزدور اس کے خلاف تحریک چلائیں
گیں۔
|