|
ایک انسان کی کھوپڑی کی تذلیل اور
اس کو گاڑی پر لٹکانے سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان اس
واقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
جبکہ اس واقع کے بعد افغانستان
میں جرمن فوجیوں پر حملوں میں شدت آنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا
ہے
جرمن وزیر دفاع مسٹر یونگ نے کہا
ہے کہ اس واقع کے بارے میں چھ افراد کی شناخت ہو گئی ہے تاہم مزید
تحقیق کی جارہی ہے
افغانستان: جرمن فوجیوں کے ہاتھوں انسانی کھوپڑی کی تذلیل
عراق اور افغانستان میں انسانی
تذلیل ، غیر انسانی تشدد اور آبرو ریزی کے علاوہ بے گناہوں کے قتل
پر امریکہ اور برطانوی فوجیوں کو تفتیش کا سامنا رہا ہے
تاہم جرمن فوج کے بارے یہ بات
پہلی بار سامنے آئی ہے کہ انہوں نے قتل یا ہلاکت کے
بعد ایک انسانی کھوپڑی کو گاڑی کے سامنے لٹکا کر اس کی نمائش کی
افغانستان میں امریکی فوجیوں کے
بارے میں اطلاعات آئی تھیں کہ انہوں نے کئی مبینہ طالبان کو ہلاک
کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو لوگوں کے سامنے جلا دیا تھا تاجہ دوسرے
لوگ اس سے عبرت حاصل کریں
تاہم امریکی فوج نے اس کی تصدیق یہ
کہہ کر کی تھی کہ ایسا اس لیئے کیا گیا تھا کہ انسانی لاش کو بے
حرمتی سے بچایا جائے کیونکہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے بارے
معلوم نہیں ہو رہا تھا
جرمنی کے وزیر دفاع نے اس اقدام کی
تحقیقات کا کہا ہے
جرمن ذرائع ابلاغ میں جرمن فوجیوں
کی جانب سے انسانی کھوپڑی کے ساتھ ایسی حرکات کی تصویریں شائع ہوئیں
تھیں
تاہم جرمنی کے وزیر دفاع مسٹر یونگ
کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجیوں کے اس اقدام کی تحقیقات کا حکم دے دیا
ہے
افغانستان میں اتحادی افواج کے ایسے
غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے عام افغان شہری بھی اتحادی افواج سے
بدظن ہو رہا ہے جبکہ طالبان کو اتحادی افواج کے ایسے اقدامات سے
فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ عوامی رجحان ایک بار پھر طالبان کی طرف
ہونے لگا ہے
طالبان کی طرف ایسے عوامی رجحان کو
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے اتحادی افواج کیخلاف طالبان مزاحمت
کو عوامی تحریک میں تبدیلی قرار دیا ہے
واضع رہے افغانستان میں جرمن فوجیوں
کو بہتر نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ جرمن فوج افغانستان میں تعمیر
کے کاموں میں حصہ لے رہی تھی تاہم امکان ہے ایسی خبروں کے عام ہونے
سے جرمن فوج کا امیج بھی بہتر نہیں رہے گا
|