Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 25 October 2006 23:15 (PST)اشاعت

افغانستان میں جرمن فوجیوں پر حملوں میں شدت کا خدشہ

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

فرینکفرٹ

واقع کے بارے چھ فوجیوں کی شناخت ہوگئی ، وزیر دفاع

افغانستان میں جرمن فوجیوں ہاتھوں انسانی کھوپڑی کی تذلیل کرنے پر جرمن حکومت میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ جرمنی وزیر دفاع مسٹر یونگ نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا ہے

تاہم جرمنی فوجیوں کی طرف سے ہلاک شدہ

ایک انسان کی کھوپڑی کی تذلیل اور اس کو گاڑی پر لٹکانے سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان اس واقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں

جبکہ اس واقع کے بعد افغانستان میں جرمن فوجیوں پر حملوں میں شدت آنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے

جرمن وزیر دفاع مسٹر یونگ نے کہا ہے کہ اس واقع کے بارے میں چھ افراد کی شناخت ہو گئی ہے تاہم مزید تحقیق کی جارہی ہے

افغانستان: جرمن فوجیوں کے ہاتھوں انسانی کھوپڑی کی تذلیل

عراق اور افغانستان میں انسانی تذلیل ، غیر انسانی تشدد اور آبرو ریزی کے علاوہ بے گناہوں کے قتل پر امریکہ اور برطانوی فوجیوں کو تفتیش کا سامنا رہا ہے  تاہم جرمن فوج کے بارے یہ بات پہلی بار سامنے آئی ہے کہ انہوں نے قتل یا ہلاکت کے بعد ایک انسانی کھوپڑی کو گاڑی کے سامنے لٹکا کر اس کی نمائش کی

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بارے میں اطلاعات آئی تھیں کہ انہوں نے کئی مبینہ طالبان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو لوگوں کے سامنے جلا دیا تھا تاجہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں

تاہم امریکی فوج نے اس کی تصدیق یہ کہہ کر کی تھی کہ ایسا اس لیئے کیا گیا تھا کہ انسانی لاش کو بے حرمتی سے بچایا جائے کیونکہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے بارے معلوم نہیں ہو رہا تھا

جرمنی کے وزیر دفاع نے اس اقدام کی تحقیقات کا کہا ہے

جرمن ذرائع ابلاغ میں جرمن فوجیوں کی جانب سے انسانی کھوپڑی کے ساتھ ایسی حرکات کی تصویریں شائع ہوئیں تھیں

تاہم جرمنی کے وزیر دفاع مسٹر یونگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجیوں کے اس اقدام کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے

افغانستان میں اتحادی افواج کے ایسے غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے عام افغان شہری بھی اتحادی افواج سے بدظن ہو رہا ہے جبکہ طالبان کو اتحادی افواج کے ایسے اقدامات سے فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ عوامی رجحان ایک بار پھر طالبان کی طرف ہونے لگا ہے

طالبان کی طرف ایسے عوامی رجحان کو پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے اتحادی افواج کیخلاف طالبان مزاحمت کو عوامی تحریک میں تبدیلی قرار دیا ہے

واضع رہے افغانستان میں جرمن فوجیوں کو بہتر نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ جرمن فوج افغانستان میں تعمیر کے کاموں میں حصہ لے رہی تھی تاہم امکان ہے ایسی خبروں کے عام ہونے سے جرمن فوج کا امیج بھی بہتر نہیں رہے گا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات