Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 04 October 2006 20:22 (PST)اشاعت

جرمنی کے ’لنکے ‘پارٹی کا گراف بڑھا ہے

تحریر۔ معظم کاظمی

کیل ، جرمنی

ایس پی ڈی اور سی ڈی یو لنکے پارٹی سے گھراہٹ کا شکار ہیں

 3 اکتوبر جرمنی کا قومی دن اس بار نارتھ جرمنی کے صوبے شلیسویگ ہوسٹین کے درالحکومت کیل میں منایا گیا۔جس میں صدر مملکت کولر اور کانسلر انجیلا میرکل نے شرکت کی۔افتاحی تقریب کیل کے سنٹر میں اوسٹ زے حال میں ہوئی۔صدر اور

کانسلر نے اس دن کو آزادی، جمہوریت اور امن قرار دیا۔اس تقریب میں کیل کے پاکستانیوں نے بھی شرکت کی۔کیونکہ پاکستانیوں کو باقاعدہ سرکاری دعوت نامہ کیل کے ملک ارشد کو آیا تھا
جرمنی کے اس قومی دن کو دیوارے برلن سے منسوب کیا جاتا ہے۔جب 1990 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے قائم اس دیوار برلن کو 40 سال بعد عوامی تحریک نے گرایا۔اس دیوار سے پہلے جرمنی 2 حصوں میں تقسٰیم تھا۔ایک مشرقی حصہ(ڈی،ڈی۔آر)اور معربی(بی،آر،ڈی)حصے تھے


دیوار برلن کا گرنا نہ صرف سرد جنگ کا خاتمہ تھا بلکہ روس کی مالا کے موتی ٹوٹنے کا آعاز تھا۔جس کے بعد پولینڈ،ہنگری۔رومانیہ۔چیکوسلواکیہ جو اب چیک اور سلواکیہ ری پبلیک 2 ملک ہیں،یوگوسلواکیہ جو اب سرب،کوسواہ،بوسینیا۔البانیہ میں تقسم ہو چکا ہے، مشرقی یورپ کے علاوہ بالٹک ریاستیں اور ایشائی روسی ریاستیں بھی سویٹ یونین سے آزاد ہو گیں
خاص طور پر مشرقی یورپی ریاستوں کی ٹوٹ میں معربی ممالک اور امریکہ کا ہاتھ تھا تاکہ ان میں سوشلیسٹ تحریک دوبارہ نہ ابھر سکے
دیوار برلن کا گرنا ایک تاریخی واقعہ تھا جس نے جرمنی کو دبارہ متحد کر کے یورپ کا بڑا ترین ملک بنا دیا۔اس پر تمام معرب نے جشن منایا کیونکہ دیوار برلن کے گرنے کو سوشلزم کے خاتمہ سے بھی تعبیر کیا گیا


اس واقعہ نے عالمی مزدورتحریکوں پر نہایت منفی اثرات مرتب کیے۔اور ماسکو نواز لیفٹ(سٹالینیسٹوں ) کو نطریاتی طور پر دیوالیہ کر دیا۔کیونکہ سٹالینزم کے عیر مارکسی نظریہ نے 1917 کے بالشویک انقلاب کو شکست سے دوچار کر کے سوویٹ یونین کی تباہی بنا دی
بالشویک انقلاب کے قائد ولادی میر ایلج الیانوف المعرف لینن کےبعد دوسرے لیڈر لیون ٹرائسکی نے 1939 میں اپنی کتاب ؛ انقلاب سے عداری ؛ میں لکھا تھا جوف سٹالن ایک آمرانہ افسرشاہی کو تعمیر کر کے اور سائنسی سوشلزم سے انحراف کرکے سویٹ انقلاب کو تباہ کر رہا ہے جو 70 سال بعد زوال پزیر ہوگا

مزید آگے لکھا سوشلزم کے لیے مزدور جمہوریت اسی طرح صروری ہے جس طرح زندگی کے لیے آکسیجن
سٹالن نے اپنے علاوہ تمام سنٹر کمیٹی کے 38 ارکان کو جنھنون نے انقلاب کیا تھا قتل کرا دیا۔اور آخیری ٹرائسکی تھا۔تھرڈ انٹر نیشنل کو ختم کر دیا۔نظریہ مسلسل انقلاب کی جگہ قومی جمھوری انقلاب کی سوچ دی۔جس سے ترقی پذیر ممالک میں انقلاب کے راستے بند کر دیے۔اور کیمونسٹ پارٹیاں سرمایہ داروں کی بلا واسطہ یا بلواسطہ تنظمیں بن گیں
سٹالنیزم کے جبر نے دیوار برلن کو اپنے جرائم چھوپانے کے لیے تعمیر کیا اور پھر یہی اس دیوار کے گرنے کا باعث بنے
آج امریکہ کی جاریت بھی روس کے زوال کے بعد شروع ہوئی پہلے بلقان پھر افعانستان عراق اور اب ایران، شام اور پاکستان کو بھی تباہی کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ورگرنہ امریکہ کی کبھی اتنی جرات نہ تھی کہ عالمی دنیا کی مخالفت کے باوجود کسی ملک پر حملہ کر نے کا سوچ بھی سکتا۔اور دیور برلن کے گرنے کا اصل فائدہ بھی امریکہ نے اٹھایا
 دیوار برلن کو گرے ابھی 16 سال ہوئے ہیں کہ اسے کئی بار دوبارہ تعمیر کرنے کی باتیں ہو چکی ہیں ،  کیونکہ اس نےدونوں طرف کی عوام کا معیار زندگی گرایا ہے۔اور آج بھی مشرقی جرمنی کے عوام کا معیار زندگی معربی جرمنی سے بہت نیچے ہے
 کل کی ایک خبر کے مطابق مشرق کے لوگ آج  سوچ رہے ہیں کے کیا انہوں نے کوئی علطی تو نہیں کی؟
 ہارسٹ4 صحت کی اصلاحات۔اور اب اگلے سال انکم ٹیکس 16 فیصد سے 19 فیصد ہو رہا ہے
 پہلے کانسلر شروڈر نے جب ہارسٹ 4 لاگو کیا تو جرمنی کے ایک بڑے جریدے شپیگال نے لکھا تھا سوشل ویلفرریاست کا خاتمہ
 اس بار قومی پارلیمنٹ میں پہلی بار سوشلسٹوں کا اتحاد ڈی لینکے کھڑے ہوئے اور جرمنی کی ایس پی ڈی اور سی ڈی یو کے بعد تیسری بڑی قوت بن گے
 اس بار شپیگال نے اپنے فرنٹ پر کارل مارکس کی تصویر بنائی جس میں اس نے فتح کا نشان بنایا تھا اور نیچے لکھا تھا:دیو کی واپسی:

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات