|
آنی شروع ہوگئی ہیں
اسی سال ڈنمارک کے ایک اخبار میں
پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کرنے پر دنیا بھر میں پر تشدد مظاہرئ
کیئے گئے تھے جن میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے
تھے
ادھر
ڈنمارك كے وزير اعظم اينڈرس فوگ راسموسين نے سركاري ٹي وي چينل پر
توہين رسالت پر مبني كارٹون كے دوبارہ نشر ہونے كے بعد عالم اسلام
ميں مسلمانوں كي جانب سے شديد رد عمل سامنے آنے پر اپنے غصے كا اظہار
كرتے ہوئے كہاہے كہ كارٹون نشر كرنے كي حركت ناقابل برداشت ہے
ايك عربي ٹي وي كے مطابق ڈينش وزير اعظم كي جانب سے ايك تحريري بيان
ميں كہا گيا ہے كہ يہ چند منچلے نوجوانوں كا ذاتي فعل تھا اور ڈنمارك
كي عوام كا اس ميں كوئي عمل دخل نہيں ہے
انہوں نے اس گھناؤني حركت پر تمام ڈينش جماعتوں كي جانب سے شديد
مزاحمت كرنے پر خوشي كا اظہار كيا
ڈنمارک نے کچھ عرصہ قبل پیغمبر
اسلام کے بارہ کارٹون اخبار میں شائع کیئے تھے جس کیخلاف مسلم دنیا
میں پر تشدد مظاہرے ہوئے اور درجنوں افراد ان مظاہروں میں ہلاک
ہوگئے تھے تاہم بعد ازاں عیسائی مذہب کے سب سے بڑے رہنما پوپ
بینیڈیکٹ کے دئے گئے پیغمبر اسلام کے بارے حالیہ بیان کے بعد
بھی دنیا بھر کے مسلم ممالک میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا تاہم ڈنمارک میں اس بار پیغمبر
اسلام کے کارٹون اخبار میں شائع کرنے کی بجائے ایک ٹی وی چینل پر
چلائے گئے
ٹی وی چینل پر چلائی جانے فلم
میں دکھائے جانے والے کارٹون ڈنمارک کی ایک سیاسی جماعت نے
بنوائے تھے
مسلمانوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے
کہ مذکورہ کارٹون فلم میں انتہائی ناقابل برداشت مواد شامل ہے
کارٹون فلم کیخلاف ڈنمارک اور ناروے
میں مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے
ادھر پاکستان میں بھی جمعیت اسلامی
کے کارکنوں نے پیغمبر اسلام کے بارے کارٹون فلم کیخلاف مظاہرے کیئے
ہیں
ایران کے صدر احمدی نژاد نے مسلم
دنیا میں ایک نئے سخت احتجاج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو
مظاہرے بمشکل ختم ہوئے تھے وہ دوبارہ کہیں زیادہ پرزور ہوسکتے ہیں
چند دن قبل پوپ بینیڈیکٹ نے جس سے
مسلم دنیا سخت ردعمل سامنے آیا تھا
ادھر مسلمانوں کا کہنا ہے ایسی
حرکتوں سے مغرب دراصل دو تہذیبوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی
لڑائی شروع کررہا ہے
واضع رہے مسلمان حلقے دو تہذیبوں کے
درمیان اس لڑائی کو افغانستان، عراق اور چیچنیا کشمیر ، فلسطین وغیرہ
میں مسلمانوں پر تشدد اور یورپ میں اسلام کیخلاف ایسے مواد اور پوپ
بینیڈیکٹ جیسی ہستیوں کے بیانات ذمہ دار ٹھہراتے ہیں
تاہم مگربی ممالک کا کہنا ہے کہ
ہمارے ہاں جمہوریت ہے اور اظہار رائے کی آزادی ہے
|