|
اب مرد مرد کے ساتھ
شادی کر سکتے ہیں اور یورپ میں ایسی شادیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے
یورپ میں اب ہم جنس
پرستوں کےلیئے ایک اور قانون بنایا گیا ہے جس کی روح سے ہم جنس پرست شادی
کے بعد بچوں کو بھی گود لے سکے گے ، یعنی اب ہم جنس پرست لے پالک بچوں کی
پرورش بھی کر سکے گے اور ایسے بچے اپنے ہم جنس پرست والدین کی جائداد کے
قانونی حقدار بھی بن سکے گے
یورپ میں اب ہم جنس
پرستی نے اپنے ََ الٹ آثار ََ بھی دکھانے شروع کر دیئے ہیں
جرمنی میں ایڈز
کے مریضوں میں پچھلے برس کے مقابلے میں 24
فیصد اضافہ ہوا ہے جوایک ریکارڈ ہے
ایڈز کے جن مریضوں میں
اضافہ ہوا ہے ان میں نوجوانوں کی اکثریت ہے اور اکثریت کا تعلق ہم جنس
پرستی ہے
ایسےنوجوانوں کی عمریں
بالترتیب20 سے24
برس کے درمیان ہیں جو ہم جنس پرستی کی تباہی کی ایک بڑی نشاندہی کرتی ہے
ایک تازہ سروے میں کہا
گیا ہے کہ پچھلے برس کے مقابلے میں ایدز کے مریضوں میں اضافہ ہم جنس پرستی
کی وجہ سے ہوا ہے
حیرت اور دلچسپی کی
بات یہ ہے کہ یورپ میں یہ جانتے ہوئے بھی ہم جنس پرستی ایڈز کا سبب بنتی ہے
اور اس کے نتائج بھی سامنے آگئے ہیں کئی ممالک نے اس کو قانونی تحفظ دیا ہے
جنوبی ایشیا میں چند
برسوں نعد بھارت ایڈز سے متاثرہ افراد کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا
پاکستان سے بھارت جانے
والے ایک طوائفوں کے وفد کی سربراہ کے مطابق پاکستان میں ان کے پاس آنے
والے لوگ کنڈوم کا ستعمال نہیں کرتے ، پاکستانی طوائفوں کا یہ وفد بھارت کے
ََ خیر سگالی ََ اور دوستی کے دورے پر گیا تھا
یورپ میں طوائفوں کو
کاروبار کرنے کےلیئے باقائدہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے
یورپ کی کوئی عورت
اپنے طور پر گاہک تلاش نہیں کر سکتی یا اپنا کوئی اڈہ نہیں بنا سکتی، اگر
طوائف ایسا کرنا چاہے تو اس کو حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے
یورپ میں عنقریب ایسا
قانون متعارف کیئ جانے کا کہا جا رہا جس میں طوائفوں کے کاروبار کو باقائدہ
ایک بزنس یا دوکان داری کے زمرے میں لایا جائے گا اور اگر ایسا کاروبار
کرنے والی کوئی عورت بیروزگار ہوتی ہے تو اسے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے گا
ایڈز پر تحقیق کرنے
والوں کا دعوی ہے کہ یہ بیماری افریقہ سے دوسری دنیا میں منتقل ہوئی جبکہ
دیگر ممالک بالخصوص مسلمان ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری یورپ سے آئی ہے |