ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

زلزلے کے سانحہ میں ٹی وی چینلز کا کردار

 

تحریر ۔ ندیم رحمان ملک

 

پاکستان میں آنے والے زلزلے سے ہزاروں اموات کے باوجود کچھ چینلز گانے بجانے کے پروگرام پیش کرتے رہے

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی کوئی قومی تہوار یا غمی خوشی، یا سانحات کے حوالے سے کوئی ٹی وی پروگرام براہ راست چل رہا ھوتا ہے،تو ایک چیز ناظرین کو بہت کوفت،ڈسڑب اور ٹینشن کا باعث بنتی ہے اور وہ اس پروگرام کے میزبان یا کمپیرز ہیں۔جو بغیر کسی تیاری یا اسکرپٹ کےٹی وی سکرین پر نمودار ھوتے 

 ہیں،ان کے پاس نہ تو کوئی علم ھوتا ہے اور نہ مشا ہدہ و تجربات،بس لفاظی اور چرب زبانی سے پروگرام کو جوں توں کر کے ختم کر جاتے ہیں۔اور بعض تو ان صلاحیتوں سے بھی محروم ھوتے ہیں۔توتلے،ہکلے میزبان پوری دنیا کی میڈیا ہسٹری میں نہیں ملیں گے،لیکن پاکستان کے ٹی وی چینلوں میں باکثرت ملیں گے

بات یہ ہے کہ ہم لوگ تو ان کے عادی ہیں۔اب جب چند سالوں سے اپنی نشریات سیٹلاہٹ کے زریعے دنیا میں دیکھی جا رہی ہے،وہ لوگ کیا تاثر لیں گےکہ ہمارے ہاں اس قسم کے پروفیثنل لوگ ہیں،جو آداب میزبانی سے بھی واقف نہیں،جن کا علم،مثاہدہ اور تجربات سے دور کا بھی واسطہ نہیں،جو پاکستان کی ہسٹری،کلچر اور جعغرافیہ سے نابلد ہیں،ان ممی،ڈیڈی قسم کے’’ علم دینوں’’ اور گل محمدوں’’ سے ٹی وی کو بچایا جا ئے

حالیہ سانحہ زلزلہ میں نجی ٹی وی چینلز نے کوریج اور اپ ڈیٹس کے حوالے سے پی ٹی وی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ان کے نماہندوں نے وہاں کی حقیقی سٹوری اور ویڈیو کے زریعے دنیا کو صورتحال سے آگاہ کیا،اور اپنے چنیل کی ساکھ بنائی۔۔۔۔لیکن افسوس سٹوڈیو میں موجود انکے کمپیر اور میزبانوں نے انکی محنت اور کاوش کو اپنی نااہلی اور کم علمی کے باعث وہ مقام اور وہ مرتبہ نہیں دے پائےجس کے وہ حقدار تھے

پھر المیہ یہ رہا کہ سٹوڈیو میں ماہرین کے نام پر تیسرے درجے کے ایکٹروں،گویوں،اور مغرب زدہ فیشن پرست اداکاروں کومدعو کیا جاتا رہا،جو اس سانحہ کے حوالے سے اوٹ پٹانگ قسم کی گفتگو کر کے ناظرین کا وقت برباد کرتے رہے

اتفاق سے اگر کوئی حکومتی ماہرین،ڈونر ایجنسی کے لوگ،ماہر تعمیرات،اور صف اول کے دانشور اور صحافیوں کو مدعو بھی کیا گیا تو تشنگی برقرار رکھنے کی برابر کوشش کی جاتی رہی۔یہ لوگ جب کوئی اہم بات پواہنٹ آوٹ کر رہے ھوتے۔۔تو یہ میزبان یکلخت اور بلاوجہ انکی بات کاٹ کے کوئی دوسرا غیر معقول قسم کا سوال داغ دیتے۔۔۔یا پھر انگلی کا اشارہ کرکے ’’ایک چھوٹی بریک لیتے ہیں’’ جیسی بدعت کا مظاہرہ کرتے رہے۔اور یوں ناظر چینل بدلنے پر مجبور ھو جاتا۔۔۔بات کی تہہ تک پہنچنا اور پھر سب کی رائے لیکر گفتگو کو سمیٹنا ان میزبانوں کی بس کی بات نہیں ہے۔

سب سے زیادہ متاثرکن سٹوری اور ویڈیو ’’آج’’ ٹی وی کے سید طلعت حسین نے تیار کی۔بالاکوٹ کی صورتحال انکی کاوش سے عیاں ھوئی۔سید طلعت حسین موضوع کے ہر ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہیں اور خوب بولتے ہیں دیگر میزبانوں کو طلعت حسین کی تقلید کرنی چاہئے۔

 اس سانحہ کے حوالے سے پی ٹی وی اور دیگر ٹی وی چینلز کے ارباب واختیار سے گزارش ہے کہ ایسے موقعوں پر وہ ماہرارضیات کو مدعو کریں،ریلف اداروں اور بنکوں کے سربراہوں کو دعوت دیں،یونیورسٹیوں کے قابل پروفیسروں کی خدمات لیں،بلڈنگ کے ماہرین اور خیمہ بستی آباد کرنے والوں کو تلاش کریں،اور ساتھ ساتھ جید علما اور مزہبی شخصیات کو دعوت اظہار دیں جو قرآن وسنت کی روشنی میں عوام کو اسکے فرائض سے آگاہ کریں اور عوام بھی ان سے کسب فیض حاصل کرسکیں۔۔۔

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں